BNP News 15.01.2018
* پارٹی میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی شمولیت ہمارے لئے باعث مسرت ہے- ہم بلوچستان کے عوام کے حقیقی قومی جدوجہد کو سیاسی و جمہوری طریقے سے آگے بڑھا رہے ہیں- پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات کی ضرورت بن چکی ہے (آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، موسی بلوچ، منیر جالب بلوچ، غلام نبی مری و پارٹی کے دیگر اکابرین کا مختلف شمولیتی پروگرامز سے خطاب)-
 

کوئٹہ (پ ر) پارٹی میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی شمولیت ہمارے لئے باعث مسرت ہے- بی این پی کو اپنی نجات دہندہ قومی سیاسی جماعت تصور کرتے ہیں- ہم بلوچستان کے عوام کے حقیقی قومی جدوجہد کو سیاسی و جمہوری طریقے سے آگے بڑھا رہے ہیں- پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات کی ضرورت بن چکی ہے-

 

ان خیالات کا اظہار کلی بڑؤ، ہزارہ ٹاؤن، بلوچ کاروان کلی گشکوری، رند آباد، شاہنواز کرد اسٹریٹ میں منعقدہ شمولیتی پروگرامز اور تنظیم کاری کے سلسلے میں منعقدہ پروگرام سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ، منیر جالب بلوچ، مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ، پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر یونس بلوچ ، میر غلام رسول مینگل ، ملک محی الدین لہڑی ، لقمان کاکڑ ، اسد سفیر شاہوانی ، ملک ابراہیم شاہوانی،ڈاکٹر علی احمد، آغا خالد شاہ دلسوز ، میر عزیز اللہ شاہوانی جان محمد مینگل،حاجی منور ہزارہ ، ماسٹر خادم حسین ہزارہ ،میجر صلاح الدین، ہدایت اللہ جتک، گنیش لال نے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر حنیف لانگو ، ظفر نیچاری ، سفیر پرکانی ، فرید مینگل ، حاجی ریاض مینگل ، کامران کشانی ، رحیم داد شاہوانی ، ظفر نیچاری ، غلام سرور لانگو ، محمد ظاہر محمد حسنی ، ظہور احمد بگٹی ،حمزہ نیچاری ، سعید احمد نیچاری ، ماما محمد وفا موجود تھے  مقررین نے کہا کہ بی این پی میں عوامی کی جوق در جوق شمولیت ہمارے لئے حوصلہ افزاء ہے عوام جان چکے ہیں بی این پی ہی عوام کی امنگوں کی بہتر انداز میں ترجمانی کر سکتے ہیں پارٹی قائد سردار اختر جان کی قیادت پر اعتماد کر کے شمولیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف بلوچ اور بلوچستان کر طبقہ فکر ، سماجی و رہنماء ، ہزارہ قوم کے فرزند بھی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں جس سے واضح ہو چکا ہے کہ عوام باشعور ہیں انہیں اس بات کا علم ہے کہ تنگ نظری ، تعصب سے بالاتر ہو کر بی این پی ہی سوچتی ہے اور انہوں نے ہمیشہ محکوم اقوام کی قومی جدوجہد کو مضبوط بنانے کیلئے جدوجہد کی ہماری کوشش ہے کہ بلوچوں کے حقوق کے حصول کے ساتھ ساتھ پشتون ، ہزارہ ، سیٹلر بلوچستانیوں کے حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں ہم نے ہمیشہ آواز بلند کر کے یہ ثابت کرایا ہے کہ بی این پی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی ہے لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ جنہوں نے ساڑھے چار سال حکمرانی کی انہوں نے بلوچستان میں پسماندگی ، بدحالی اور تعلیمی نظام کو مزید پستی کی جانب دھکیلا آج بلوچستان کے ہر طبقہ فکر کو استحصال کا نشانہ بنایا گیا بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کی گئیں اربوں روپے لیپس ہو کر مرکز کو واپس ملے عوام پانی ، صحت سمیت دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں کرپشن اس بات ہوتی ہے جب جعلی لوگوں کو حکمرانی دی جاتی ہے 2018ء کے الیکشن سے قبل ہی عوام کی شمولیت سے ثابت ہو گیا ہے کہ بی این پی سیاسی قوت ہے اور عام انتخابات میں ہماری کامیابی یقینی ہے پارٹی کے عظیم الشان جلسے ، شمولیتی پروگرامز اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام نے جعلی حکمران اور نام نہاد قوم پرستوں کو رد کر دیا ہے پارٹی کے کی جدوجہد عوام کے حقوق ، سرزمین کی حفاظت ، قومی تشخص کی بقاء کیلئے ہے آج ہزارہ قوم کے سماجی فرزند ماسٹر خادم حسین ہزارہ کی شمولیت ، کلی بڑؤ میں ڈاکٹر دانش کی سربراہی میں درجنوں دوستوں کی شمولیت خوش آئند ہے شمولیت کرنے والوں میں ماسٹرنیک محمد شاہوانی ،محمد یوسف شاہوانی ، عبدالحمید لہڑی ، محمد اکبر شاہوانی ، عامر مینگل ، زبیر محمد شہی ، محمد رفیق رئیسانی ، عبدالعلی رئیسانی ، نذیر احمد شاہوانی ، منظور احمد بنگلزئی ، ملک شکیل شاہوانی دیگر درجنوں افراد شامل ہیں اس موقع پر مختلف یونٹس کے انتخابات بھی عمل میں لائے گئے یونٹ سیکرٹری ، ڈپٹی یونٹ سیکرٹری ، ضلعی کونسلران کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا پارٹی کی جانب سے نئے شمولیت کرنے والے دوستوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ وہ پارٹی منشور کو گھر گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے -