BNP News 11.10.2017
* شہداء 10اکتوبر کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی- بلوچ ہزاروں سالوں سے اپنی سرزمین کی حفاظت اور بقاء کی جدوجہد کر رہے ہیں-
* حکمران جماعت کا مردم شماری کے نتائج پر واویلا مچانے کا مقصد افغان مہاجرین کو تحفظ دینا ہے-
* صوبائی اور مرکزی حکومت کے سب سے قریب ترین اتحادی اختیارات و اقتدار کے باوجود تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جو مضحکہ خیز ہے-
 
کوئٹہ (پ ر) شہداء 10اکتوبر کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی- بلوچ ہزاروں سالوں سے اپنی سرزمین کی حفاظت اور بقاء کی جدوجہد کر رہے ہیں- حکمران جماعت کا مردم شماری کے نتائج پر واویلا مچانے کا مقصد افغان مہاجرین کو تحفظ دینا ہے- صوبائی اور مرکزی حکومت کے سب سے قریب ترین اتحادی اختیارات و اقتدار کے باوجود تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جو مضحکہ خیز ہے- 1931ء سے اب تک بلوچ کی آبادی 85فیصد رہی ہے جو حقیقت ہے مردم شماری کی شمار کئے جانے والے افغان مہاجرین کی تعداد سے قوم کو آگاہ کیا جائے ہزارہ قوم کے فرزندوں کی قتل و غارت گری قابل مذمت ہے بلوچ نوجوان قلم کو ہتھیار بنا کر حقوق کیلئے جدوجہد کریں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے کلی ترخہ میں شہداء 10اکتوبر کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، بی ایس او کے سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ ، مرکزی رہنماء غلام نبی مری ، جاوید بلوچ ، سردار حق نواز بزدار ، سردار عمران بنگلزئی ، ثانیہ حسن کشانی ، یونس بلوچ ، لقمان کاکڑ ، سیف الرحمان عیسی زئی ، احمد نواز بلوچ ، رحیم لہڑی ، ٹائٹس جانسن ،صدام مینگل ، صمد بڑیچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض اسد سفیر شاہوانی نے سرانجام دیئے اس موقع پر ملک عبدالحئی دہوار ،  حاجی فاروق شاہوانی ،میر کاول خان مری ،رحیم بنگلزئی ، باول بنگلزئی ،بابو کھوسہ ، سلیم سیاپاد ، شاہنواز کشانی، شاہد شاہوانی و دیگر بھی موجود تھے مقررین نے کہا کہ شہداء 10اکتوبر کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی شہید علی محمد لانگو ،نیاز محمد مینگل کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان بلوچوں کا ہزاروں سالوں سے مسکن رہا ہے بلوچوں کی اپنی تاریخ ، تہذیب ، تمدن اور زبان ہزاروں سالوں پر محیط ہے مہر گڑھ کی تاریخی تہذیب و تمدن ہے مقررین نے کہا کہ بلوچ شہداء و غازیوں کا کوئٹہ ہزاروں سالوں سے اٹوٹ انگ رہا ہے بی این پی بلوچوں کے سرزمین کی سیاسی و جغرافیائی کی حفاظت اپنی بقاء کی جدوجہد کر رہی ہے ہر توسیع پسندی کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ بلوچوں کو سرزمین کسی نے تحفے میں نہیں دی شہداء نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن کے دفاع و بقاء کیلئے قربانیاں دیں مقررین نے کہا حکمران جماعت جو صوبے و مرکز کی قریب ترین اتحادی ہے آج وہ مردم شماری کے نتائج پر واویلا کر رہے ہیں جو مضحکہ خیز ہے اقتدار و اختیار اور پنجاب کے قریب ترین اتحادیوں کیلئے مناسب نہیں بلوچستان میں ان کی حکومت ہے مردم و خانہ شماری میں بلوچستان حکومت کی مشینری کو استعمال کر کے افغان مہاجرین کو مردم شماری کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ایسی باتوں کا مقصد بھی یہی ہے کہ افغان مہاجرین کو تحفظ دیا جا سکے محکمہ شماریات کے ارباب و اختیار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر افغان مہاجرین سے متعلق تعداد سے عوام کو آگاہ کریں خانہ شماری مردم شماری پر خدشات و تحفظات کے حوالے سے پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری نے پٹیشن دائر کی جس پر ہائی کورٹ نے فیصلہ پارٹی کے حق میں صادر کرتے ہوئے حکم دیا کہ افغان مہاجرین کو مردم شماری سے دور اور بلوچ آئی ڈی پیز کو شامل کیا جائے اس فیصلے کے روح کے مطابق محکمہ شماریات کے ارباب و اختیار کی قانونی طور پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی تعداد سے قوم کو آگاہ کریں مقررین نے کہا کہ 1931ء سے اب تک بلوچوں کی آبادی بلوچستان میں 85فیصد رہی ہے آواران ، مستونگ ، نوشکی ، ڈیرہ بگٹی ، کوہلو، نصیر آباد میں بلوچوں کی آبادی جو ظاہر کی گئی ہے اس سے کئی گنا زیادہ ہے بلوچستان ہمارے آباؤاجداد کی سرزمین ہے جو کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دی ہم اس کے ساحل وسائل کو مال غنیمت سمجھ کر تقسیم کریں یہ شہداء و غازیوں کی مانت ہے جس کیلئے ہم جدوجہد کر رہے ہیں مقررین نے کہا کہ بی این پی ایک حقیقت ہے حقائق جھٹلائے نہیں جاسکتے تاریخ کو کوئی اپنی خواہشات کے مطابق نہیں لکھ سکتا ہماری جدوجہد اپنی قومی تشخص بقاء کیلئے ہمیشہ جاری رہے گی شہداء عالمو چوک کے ارمانوں کی تکمیل کیلئے جدوجہد کو مشعل راہ سمجھ کر جہد کر رہے ہیں بی این پی ترقی پسند ، روشن خیال ، قوم دوست وطن دوست سیاسی قوت ہے لیکن اصولی و قومی معاملات پر مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہوں گے افغان مہاجرین کو اب باعزت طریقے سے وطن واپس بھیج دینا چاہئے اب وہاں حالات زیادہ بہتر ہیں افغان مہاجرین کی وجہ سے انتہاء پسندی ، فرقہ واریت ، مذہبی جنونیت سمیت مختلف مسائل کا بلوچستانی عوام سامنا کر رہے ہیں ہزاروہ قوم کے فرزندوں کی ٹارگٹ کلنگ قابل مذمت ہے ایسے واقعات دلخراش ہوتے ہیں جس میں انسانیت کا خون کیا جائے فوری طور پر ایسے معاملات کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے صوبائی حکومت میں شامل اتحادی کی اتنی جرات نہیں تھی کہ افغان مہاجرین کو مہاجر کہیں آج وہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ بلو چ قوم کو ہم نے مردم شماری میں اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچایا بلوچ قوم جانتی ہے کہ بی این پی ہی نے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں مردم شماری پر جو مثبت کردار ادا کیا اور افغان مہاجرین سے متعلق واضح موقف رکھا سیاسی قانونی جمہوری انداز میں خدشات و تحفظات کا اظہار کیا وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلوچ قوم کو اب دھوکہ دینا ممکن نہیں مقررین نے کہا کہ بی این پی قومی معاملات پر کبھی بھی سودا بازی نہیں کرے گی کیونکہ سیاست کو پارٹی نے ہمیشہ عبادت کا درجہ دیا ہے ہمارا محور و مقصد بھی یہی ہے کہ ہم عوام کی بقاء کی جدوجہد کو قومی جمہوری اور سیاست انداز میں جاری رکھیں 2018ء کے انتخابات ہونے کو ہیں اس کے حوالے سے پارٹی ورکر اپنے اپنے اضلاع میں تیاریاں شروع کر دیں پارٹی عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر کلین سوئپ کرے گی بخوبی جانتے ہیں کہ 2013ء کی طرح ایک بار پھر کامیابی ہماری ہوگی ہمیں کوئی بھی قومی جمہوری پارلیمانی سیاست سے دور نہیں رکھ سکے گا بی این پی عوام کی آواز ہے ہم ترقی و خوشحالی کے مخالف نہیں سیاسی لوگ ہیں جمہور پر یقین رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک منصوبے میں پہلی ترجیح گوادر ، مکران کے بلوچوں کو دی جائے وہاں انسانی ضروریات کی تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں سکول ، روزگار ، تعلیم ، بجلی ، پانی کی فراہمی میں اولیت گوادر بلوچستان کو دی جائے یہ نہ ہو کہ سی پیک بلوچستان میں ہو اور ترقی پنجاب میں ہو رہی ہے آئین کے روح کے مطابق انسانی بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مقررین نے کہا کہ بلوچ نوجوان قلم کو ہتھیار بنا کر حقوق کیلئے جدوجہد کریں علم و آگاہی کے ذریعے تمام معاملات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ وقت کمر بستہ رہیں گے بلوچ قوم باصلاحیت قوم ہے اگر قوم نے محنت و سنجیدگی سے معاملات دیکھا تو اکیسویں صدی کا مقابلہ کرنے کیلئے بلوچ قوم میں صلاحیتیں موجود ہیں بی این پی کی قیادت بزرگ رہنماء سردار عطاء اللہ مینگل کے فکر و فلسفے سے وابستگی رکھتے ہیں جنہوں نے پوری زندگی اصولوں پر سیاست کی کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے مقررین نے کہا کہ حکمران بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کی کوششیں کر رہی ہیں مختلف محکموں میں جو تعیناتیاں ہو رہی ہیں وہ لسانی بنیاد پر کی جا رہی ہیں جن میں واسا سمیت دیگر محکمے شامل ہیں ہماری جدوجہد اجتماعی مفادات کے حصول اور عوام کی حقیقی ترقی و خوشحالی کیلئے ہے 2018ء میں ایک بار پھر عوام بی این پی کو بھرپور انداز میں کامیاب کریں گے ۔