BNP News 19.04.2017
* شہید غفار مری کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے- قتل کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے- کوئٹہ کے شہریوں کو یرغمال بنایا جاچکا ہے- انتظامیہ اور حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں- متعلقہ ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل اور چور پولیس اتحاد ختم کیا جائے- عوامی مینڈیٹ کے دعوے کرنے والے شاید بھول چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کو کس طرح اقتدار پر براجمان کیا گیا- فرشتوں نے اقتدار تک رسائی ممکن بنائی-

 

 
کوئٹہ (پ ر) شہید غفار مری کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے- قتل کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے- کوئٹہ کے شہریوں کو یرغمال بنایا جاچکا ہے- انتظامیہ اور حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں- متعلقہ ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل اور چور پولیس اتحاد ختم کیا جائے- عوامی مینڈیٹ کے دعوے کرنے والے شاید بھول چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کو کس طرح اقتدار پر براجمان کیا گیا- فرشتوں نے اقتدار تک رسائی ممکن بنائی- بی این پی قومی جمہوری سیاست پر یقین رکھتی ہے سی پیک اور مردم شماری کے خلاف نہیں شعور رکھنے والی قوم ہیں خدشات و تحفظات کو دور کرنے کیلئے آواز بلند کرنا قومی ذمہ داری ہے جسے ادا کرتے رہیں گے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، بی ایس او کے سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ ، بی این پی مرکزی کمیٹی کے ممبران اختر حسین لانگو ، غلام نبی مری ، سردار حق نواز بزدار ، جمیلہ بلوچ ، سید ناصر علی شاہ ہزارہ نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ملک محی الدین لہڑی نے سرانجام دیئے اس موقع پر سردار عمران بنگلزئی ، شمائلہ بلوچ ، یونس بلوچ ، ملک گامن خان مری ، بالاچ بلوچ ، سردار رحمت اللہ قیصرانی ، خیر جان کھیتران ، لقمان کاکڑ، اسد سفیر شاہوانی ، آغا خالد شاہ دلسوز ، احمد نواز بلوچ ، حاجی ابراہیم پرکانی ،  ملک فرید شاہوانی، کاول خان مری حاجی وحید لہڑی ، ثناء مسرور بلوچ ، کامریڈ یونس بلوچ ، رضا جان شاہی زئی ، ظفر نیچاری، صدام لانگو ، ٹائٹس جانسن،ولی مینگل ،وڈیرہ جلات خان مری ، ملک بختیار خروٹیانی ،عزیز جان مری ، محمد عظیم خان مری ، وڈیرہ شیر محمد مری ، میر موسیٰ خان مری ، وڈیرہ گلا خان مری ، ملک علی گل رحمکانی ، میر بسم اللہ مری ، وڈیرہ سبزلی پیر دادانی ،میر فقیر خان مری ، حاجی شیر جان مری ، وڈیرہ ارسلا خان مری ، حاجی جامو للاونی، در محمد مری ، فقیرشادی گل مری سمیت دیگر موجود تھے مظاہرہ غفار مری کے قاتل کیخلاف کیا گیا گزشتہ روز کلی بڑو میں موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر غفار مری کو شہید کیا گیا مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں آئے روز بے امنی ، ڈکیتی ، راہزنی کی وارداتیں ہو رہی ہیں عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے کیچی بیگ ، شالکوٹ ، نیو سریاب تھانوں کے حدود میں دیگر علاقوں میں ایسے واقعات کے رونما ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے دن دیہاڑے نوجوانوں کا قتل ، اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ سے یہ امر واضح ہو چکی ہے کہ کوئٹہ میں ڈاکوؤں اور پولیس اہلکاروں میں اتحاد ہو گیا ہے اسی لئے کئی وارداتوں کے باوجود گرفتاریاں نہیں ہوئی ہیں حالانکہ امن و امان کی بحالی کے مد میں اربوں روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں اربوں کی رقم سماجی کاموں کے مد میں رکھے جاتے تو آج کوئٹہ کے عوام کے مسائل کسی حد تک حل ہو جاتے کوئٹہ کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور ٹینکر مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہیں اربوں روپے امن و امان کی بحالی پر خرچ کرنے کے دعوئے کئے جا رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اربوں روپے کرپشن کی نظر ہو رہے ہیں ہزاروں کی تعداد میں سیکورٹی اہلکار کوئٹہ میں چیک پوسٹوں پر تعینات ہیں مگر نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں فوری طور پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کیا جائے اور ملزمان کو گرفتار کر کے سزا دی جائے اس کے برعکس پارٹی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی عدالت عالیہ سے بھی اپیل ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال پر از خود نوٹس لے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے ارباب اختیار دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ بلوچستان میں امن ہے کیسا امن ہے کہ چند روپے کی موٹر سائیکل کی خاطر جانیں لی جا رہی ہے عوامی مینڈیٹ کے دعوے کرنے والے بھول گئے ہیں کہ 2013ء میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوئے ایسے لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا جنہوں نے ہر دور میں بلوچوں کا استحصا ل کیا اور خاموشی تماشائی رہے حکمران فرشتوں کے ذریعے اقتدار پر براجمان ہیں بی این پی کے قائد سردار اختر جان مینگل کی بلوچستان میں پذیرائی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ان کی قیادت میں بلوچ قومی جمہوری جدوجہد جاری ہے یہ تاثر دینا کہ ہم مردم شماری ، سی پیک کے خلاف ہیں درست اقدام نہیں یہ ضروری ہے کہ ہم سی پیک سمیت مردم شماری پر بلوچ خدشات پر آواز بلند کریں اور قومی جماعت کی حیثیت سے اولین فریضہ ہے ترقی و خوشحالی ضرورت ہے بلوچستان کیلئے نہ کہ دیگر صوبوں کیلئے مقررین نے کہا کہ بی این پی بلوچ قومی اجتماعی مفادات کیلئے جدوجہد کر رہی ہے پریس کلب کے سامنے آج سے قبل شہید گل زمین حبیب جالب بلوچ ، میر نور الدین مینگل بھی جدوجہد کر رہے ہیں  اب ہم میں نہیں رہے انہوں نے کسی بھی مصلحت پسندی نہیں کی آج بھی بی این پی کے سہ رنگہ بیرک بلوچستان کی قومی جہد سے وابستہ ہے بلوچستان کی قومی جدوجہد کو غیر متزلزل انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے ہم تنگ نظری کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے آج بی این پی میں بلوچ ، پشتون ، ہزارہ سمیت تمام اقوام مشترکہ میں کر رہے ہیں جو اس بات کی غمازی ہے کہ بلوچ اور بلوچستان کے عوام نے بی این پی کو ہی اپنا نجات دہندہ تسلیم کر لیا ہے اور سردار اختر جان مینگل کی قیادت کو وقت و حالات کی ضرورت گردانتے ہیں فوری طور ڈاکو پولیس اتحاد کا خاتمہ یقینی بنایا جائے نااہل اور کرپٹ ایس ایچ او کو تبدیل اور معطل کیا جائے شہید غفار مری کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے امن کی بحالی کو یقینی بنایا جائے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ جان کی بازیابی کیلئے اقدامات کئے جائیں اور کوئٹہ کے بلوچ علاقوں میں منشیات کے اڈے جو پولیس کی سرپرستی میں چلائے جا رہے ہیں انہیں ختم کیا جائے اس کے برعکس ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے