BNP News 17.04.2017
* پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے انتخابی اتحاد پر بات کرینگے ( سردار اختر جان مینگل)-
* مردم شماری اور سی پیک پر ہمارے خدشات و تحفظات دور کرنا ضروری ہیں (مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی)-
* پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری کے کزن غفارمری کی شہادت پر سرداراخترجان مینگل، ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی، ملک عبدالولی کاکڑ، پرنس موسیٰ جان، ملک نصیر شاہوانی، ساجد ترین ایڈووکیٹ اور پارٹی کے دیگر اکابرین کی جانب سےاظہارِ تعزیت و فاتحہ خوانی۔
* بی این پی کی جانب سے مسیحی برادری کو ایسٹر کے موقع پر مبارکباد- امید ہے کہ مسیحی برادری بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

 

 
سراوان ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ میڈیا کو بھی کوٹا سسٹم میں تبدیل کیا گیا ہے- اب میڈیامیں بھی بلوچستان کی خبریں کوٹے کے حساب سے خبر نشر ہوتی ہیںیہاں میڈیا والے بھی خاموش ہیں اور حکمران بھی بہرے ہوگئے ہیں اس عمل سے ہمارا موقف عوام سمیت مقتدرہ قوت تک نہیں پہنچ سکتابلوچستان کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آج بھی صورت حال ابترہے حکمرانوں کوساون کے اندھے کی طرح ہر چیز ہری نظر آرہی ہے مگر حالات اس کے برعکس ہیں انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے کئی ارکان لیک ہوجائینگے اوریہاں مسلم لیگ کو اتنے پینچر ہونگے کہ ان پینچرز کو لگانے والا کوئی نہیں ہوگاآصف علی زرداری سے ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں آنے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے بات چیت ہوگی پارلیمانی سیاست میں کچھ دو اور لو کی بنیاد پر ہی معاملات طے پاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے سیاسی ڈھانچے میں قبائلی شخصیات کا بھی اہم کردار ہوتا ہے اسی طرح سیاسی رہنماؤں اور شخصیات کے ساتھ بیٹھک لگے گی انتخابات پر بات چیت ہوگی فی الوقت اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس طرح کا اتحاد بنے گا ۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ کبھی بھی بلوچستان میں الیکشن شفاف نہیں ہوئے اور یہ امید بھی نہیں کہ آنے والے انتخابات شفاف ہونگے۔سردار اختر جان مینگل نے کہاکہ گوادر کو شوپیس کی طرح پیش کیاجارہا ہے اور اس کے ذریعے پنجاب کو ترقی دی جارہی ہے تمام ترقیاتی منصوبے پنجاب میں جاری ہے جبکہ گوادر سے بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلوچوں کی نقل مکانی کے بعد ہی گوادر میں ترقیاتی کام تیز ہونگے،گوادر کی ترقی کو اس وقت تسلیم کرینگے جب بلوچ وہاں رہ کر اس سے استفادہ حاصل کرینگے سی پیک منصوبے کے حوالے سے منتخب نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے پر قانون سازی کریں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں تمام ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں بجٹ میں سب سے زیادہ رقم تعلیم پر مختص کی گئی تھی جو49 بلین روپے ہے مگراس کے باوجود تعلیمی نظام میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے حالت یہ ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں اب بھی کچی ہیں جبکہ اساتذہ سے پیسے لیکر بھرتیاں عمل میں لائی جارہی ہیں موجودہ حکومت کا تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ ڈھکوسلہ اور گمراہ کن ہے، این ٹی ایس کے نام پر ملازمتیں فروخت کی جارہی ہیں یا اپنے من پسند افراد کو نوازاجارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے دور حکومت میں چالیس فیصد بجٹ تعلیم کیلئے مختص تھا ہم نے تعلیمی اداروں کی بنیاد کو مضبوط بنانے کو فوقیت دی اور جس کے خاطر خواہ نتائج برآمدہوئے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ خزانے کے سوائے دیگر محکمے تباہ حال ہیں اداروں میں کرپشن عروج پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے ناراض نہیں بس اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب ہم سے ناراض ہیں ہم صرف اپنا بیانیہ کہتے ہیں اس پر کسی کو اعتراض ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ موجودہ اسمبلی سیٹ اپ کے دوران جو قراردادیں میں نے لائی ہیں ان میں سے کسی پر عملدرآمد نہیں ہوا ان سب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے سردار اختر جان مینگل نے کہاکہ بلوچستان کی بیڈ گورننس کی وجہ چیک اینڈ بیلنس ہے آج بھی بلوچستان کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔

کوئٹہ (پ ر) مردم شماری اور سی پیک پر ہمارے خدشات و تحفظات دور کرنا ضروری ہیں- سی پیک کے حوالے سے فوری طور پر قانون سازی کی جائے تاکہ بلوچ اپنی تاریخی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل نہ ہوں کسی بھی غیر مقامی کو گوادر سے شناختی کارڈز و پاسپورٹ کے اجراء اور انتخابی فہرستوں میں ان کے ناموں کا اندراج پر پابندی کیلئے قانونی سازی کی جائے بی این پی بلوچستان کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں کانفرنسز منعقد کر رہی ہے جن کا مقصد شعوری فکری و سیاسی نشوونما کو تقویت دینا ہے پارٹی کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کا عمل جاری ہے بلوچ عوام اپنی تاریخ تہذیب و تمدن کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں بہت سی اقوام کی تاریخ مٹ چکی ہے جو قومی جدوجہد سے پیچھے رہے-

ان خیالات کا اظہار بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ کوئٹہ ‘ نوشکی ‘ چاغی کے ضلعی صدورز ‘ جنرل سیکرٹریز اور کوئٹہ ڈویژن سے ساتھ تعلق رکھنے والے پارٹی کے مرکزی عہدیداران کے کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس کی کارروائی مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے چلائی اس موقع پر پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی ‘ موسیٰ بلوچ ‘ ساجد ترین ایڈووکیٹ ‘ خورشید جمالدینی ‘ حاجی بہادر خان نوتیزئی ‘ میر محمد ہاشم نوتیزئی ‘ اختر حسین لانگو ‘ جمال لانگو‘ سردار عمران بنگلزئی ‘ ڈاکٹر پروفیسر شہناز بلوچ ‘ ثانیہ حسن کشانی ‘ شکیلہ نوید دہوار ‘ فوزیہ بلوچ ‘ فرزانہ بلوچ ‘ شمائلہ افشین بلوچ ‘ امبر زہری ‘ بشریٰ رند ‘ شمیم بلوچ نوشکی کے صدر نذیر بلوچ ‘ ثناء اللہ جمالدینی ‘ عزیز بادینی ‘ چاغی کے صدر محمد غوث بلوچ محمد بخش بلوچ ‘ ملک مجید کاکڑ اور دیگر بھی موجود تھے کانفرنس کے ایجنڈا تنظیمی امور سے متعلق تھا جس پر سیر حاصل بحث کی گئی کانفرنس میں کہا گیا کہ تنظیمی امور کے حوالے سے کوئٹہ ‘ نوشکی ‘ چاغی اضلاع کے صدور و جنرل سیکرٹریز نے اپنی رپورٹس پیش کیں جو تنظیمی کاری کے حوالے سے تھیں مفصل اور جامع رپورٹ پیش کرنے کے بعد تفصیلی طور پر بحث و تمیز کی گئی اور تجاویز پیش کی گئیں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی جو عوامی و سیاسی قوت بنتی جا رہی ہے سیسہ پلائی دیوار کی مانند بلوچستان میں فعال اور متحرک مثبت سیاسی کردار ادا کر رہی ہے عوامی رابطہ مہم ‘ سیاسی فکری ‘ شعوری نظریاتی پروگرامز منعقد کئے جا رہے ہیں کیونکہ معاشروں میں ناانصافیوں کے خاتمے اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کا مثبت عمل اسی تسلسل کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ عوام کے جذبات و احساسات بلوچ قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے مسائل و مصائب کو مد نظر رکھتے ہوئے جدوجہد کو مزید فعال کرنا اور پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات کی ضرورت ہے کانفرنس میں کہا گیاکہ اس سے قبل نصیر آباد ریجن میں کانفرنس منعقد کرنے کے مثبت نتائج سامنے آئے جب اضلاع کے آپس میں روابط بڑھیں گے تو مسائل کے حل کیلئے جہد کو تیز کیا جا سکے گا کوئٹہ ڈویژنل کانفرنس جس کا ابتدائی طور پر انعقاد کیا جا رہا ہے آگے جا کر کوئٹہ ڈویژن کے اضلاع آپس میں تنظیم سے متعلق امور ‘ ملکی و بین الاقوامی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک دوسرے کو آگاہی دیتے ہوئے مدد گار ثابت ہو سکیں گے مردم شماری و خانہ شماری کے حوالے سے خدشات و تحفظات دور کئے جائیں کیونکہ مردم شماری کی حیثیت و افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن بلوچوں کو اس حوالے سے درپیش مشکلات ہیں حکمرانوں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حوالے سے اقدامات کریں تاکہ صاف شفاف مردم شماری کو یقینی بنایا جا سکے بلوچوں کے لئے مردم شماری و سی پیک اہمیت کے حامل اہم معاملات ہیں ہم ترقی و خوشحالی کے خلاف نہیں بلکہ سی پیک سے متعلق ہمارے خدشات و تحفظات حقیقت پر مبنی ہیں جب یہاں پر ترقی ہو گی تو انتقال آبادی کی وجہ سے گوادر میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ آباد ہوں گے جو ہماری ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ ‘ تہذیب ‘ تمدن ‘ قومی تشخص کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اس متعلق آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرائی گئی جس میں تمام سیاسی جماعتیں نے اکابرین نے شرکت کی جن کے سامنے موقف رکھا گیا تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے قراردادادوں کو درست قرار دیا اور ان کی منظوری بھی دی مگر اس حوالے سے حکمرانوں نے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ اپنے ان مسائل کو ملک کے ارباب و اختیار کے سامنے رکھیں تاکہ فوری طور پر قانون سازی کی جائے بلوچ تاریخ ملیامیٹ نہ ہو مردم شماری سے متعلق قومی یکجہتی جرگہ منعقد کیا گیا تاکہ صاف شفاف مردم شماری کو یقینی بنایا جا سکے اب بھی بلوچوں کی 57فیصد رجسٹریشن نہیں کرائی گئی یہ انسانی حقوق کے پامالی کی زمرے میں آتی ہے اب بھی بلوچ میں انسرجنسی کی وجہ سے خوف و ہراس کا ماحول ہے جو عوام کیلئے تکلیف دہ ہے جس کی وجہ سے مردم شماری میں مشکلات درپیش ہیں بلوچستان جو مصائب سے مالا مال سرزمین ہے لیکن آج یہاں انسانی بنیادی ضروریات نا پید ہو چکی ہیں معاشی تنگ دستی ‘ بدحالی ‘ غربت ‘ افلاس ‘ بے روزگاری ‘ مہنگائی کی وجہ سے عوام نان شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں زراعت تباہی کے دہانے پہنچ چکی ہے سی پیک کے حوالے سے بلند و بالا دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن عملاً دیکھنے میں کچھ نہیں ہے سب کچھ پنجاب میں کیا جا رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک سے زیادہ تر بلوچستانی عوام مستفید ہوں گوادر جس کی وجہ سے سی پیک ہے وہاں پر تعلیمی و ہنر مندی کے ادارے ‘ نوجوانوں کو سہولیات جب تک فراہم نہیں کی جائیں گی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جائیں گے کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ گوادر کے اختیارات بلوچستان کو دیئے جائیں عوامی بنیادی جتنے بھی مسائل ہیں ان کو فوری طور پر حل کیا جائے ترقی لفاظی نہیں عملی ہونی چاہئے چینی زبان سیکھنے کیلئے ہزاروں طلباء کو بھیجا گیا جن میں چند بلوچ ہیں حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے مسائل جوں کے توں ہیں مسائل حل نہیں ہو پا رہے کانفرنس میں کہا گیا کہ ہم قومی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ہم مثبت سوچ کو آگے بڑھا رہے ہیں عوام کے مجموعی قومی مفادات عزیز ہیں اس پر آواز بلند کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کانفرنس میں پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری کے جواں سال کزن کے قتل اور پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر فرزانہ بلوچ کی والدہ کے ایصال ثواب کیلئے دعا مغفرت کی گئی ۔


کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائد سرداراخترجان مینگل ،ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی ،ملک عبدالولی کاکڑ، پرنس موسیٰ جان ،ملک نصیر شاہوانی ،ساجد ترین ایڈووکیٹ ،مرکزی کمیٹی کے ممبر عبدالرؤف مینگل ،حاجی خورشید جمالدینی ،بہادر خان مینگل ،ہاشم نوتیزئی ،اختر حسین لانگو ،جمال لانگو نے اپنے ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری کے جوانسال کزن غفارمری کی شہادت پر ان سے اظہار تعزیت کی ہے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کوجنت الفردوس میں جگہ اور لواحقین کو صبر وجمیل عطاء فرمائے ،بیان میں رہنماؤں نے شہید غفار مری کے لواحقین سے اظہاریکجہتی کیااسی اثناء پارتی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ‘ موسیٰ بلوچ نے غفار مری کے قتل کیخلاف منعقدہ مظاہرے میں شرکت کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں مسیحی برادری کو ایسٹر کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسیحی برادری بلوچستان کی قومی جدوجہد میں اپنا سیاسی و قومی جمہوری کردار ادا کریں- ہم مسیحی برادری کودل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے۔