BNP News 08.03.2017
* پارٹی کی جانب سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز صوبائی کمشنر شماریات میر پسند خان بلیدی سے متعلق کر کے پارٹی کی مردم شماری کے حوالے سے خدشات و تحفظات پر ڈرافٹ پیش کیا-
* اکیسویں صدی میں بھی خواتین مسائل سے دوچار اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی خواتین کو گھر میں بٹھا دیا جاتا ہے (مرکزی کمیٹی کی اراکین شکیلہ نوید دہوار اور جمیلہ بلوچ کا 8 مارچ یوم خواتین کی مناسبت سے بیان)-

 


کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز صوبائی کمشنر شماریات میر پسند خان بلیدی سے متعلق کر کے پارٹی کی مردم شماری کے حوالے سے خدشات و تحفظات پر ڈرافٹ پیش کیا- اس موقع پر پارٹی کے ضلع موسیٰ خیل کے صدر سردار رحمت اللہ قیصرانی بھی موجود تھے ڈرافٹ میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ مردم شماری اور خانہ شماری ہونے جا رہی ہے جبکہ بلوچستان میں چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کا شفاف انعقاد ممکن نہیں اکثریتی بلوچ اضلاع کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں بلوچ اپنے علاقوں سے ہجرت کر کے ملک کے دوسرے صوبوں ، علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں آیا ان کی غیر موجودگی میں ان علاقوں میں جب انہیں شمار نہیں کیا جائیگا تو یہ غیر قانونی ، غیر آئینی اور ان کے حقوق کی پامالی کے اقدام نہیں ہو گا بلوچستان کی اتنی بڑی آبادی کو شمار کئے بغیر خانہ شماری ، مردم شماری بلوچ قوم کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگی صاف شفاف مردم شماری تب ہی ممکن ہو گی جب غیر ملکیوں کو شمار نہ کیا جائے اور بحالت مجبوری ہجرت کرنے والوں کی شماری کو یقینی بنایا جائے تب ہی مردم شماری کے مثبت ثمرات سامنے آئیں گے آغا حسن میر پسند خان بلیدی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ2011ء میں خانہ شماری بلوچستان میں ہوئی تھی تو اس دور کے سیکرٹری شماریات نے انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں افغان مہاجرین کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں بڑی حد تک بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور آبادی کا تناسب 4سو سے 5سو فیصد تک بڑھ چکا ہے افغان مہاجرین صرف بلوچوں کیلئے نہیں بلکہ تمام بلوچستانیوں بلوچ ، پشتون ، پنجابی ، ہزارہ سمیت دیگر اقوام کیلئے مسائل کا سبب بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ شماریات اور نادرا کے اداروں کو پارٹی کی جانب سے تحفظات و خدشات کا ڈرافٹ پیش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ متعلقہ اداروں کے ارباب و اختیار کو مردم شماری ، خانہ شماری پر اعتراضات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً آگاہی دی جائے انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی حکمران اور متعلقہ محکمے ہمارے خدشات کو ختم نہیں کر سکے تو ہم قانونی چارہ کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں پارٹی مردم شماری کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہے ہم صاف شفاف بنیادوں پر مردم شماری ہو اس کی مخالفت نہیں کرتے لیکن خدشات و تحفظات دور نہ کرنے کی بنیاد پر مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے ایسے اقدامات سے مزید بلوچوں کی احساس محرومی و محکومیت میں اضافہ یقینی ہوگا ۔
کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کی اراکین شکیلہ نوید دہوار، جمیلہ بلوچ نے 8 مارچ یوم خواتین کی مناسبت سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی خواتین مسائل سے دوچار اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی خواتین کو گھر میں بٹھا دیا جاتا ہے- انہوں نے کہا کہ اسی تعلیم کی بدولت خواتین معاشرے میں شعور اجاگر کر سکتی ہیں خواتین کو بھی ملک کی ترقی کیلئے اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ملک کی آبادی خواتین پر مشتمل ہے ہمیں خواتین کے جملہ مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ معاشرے کی نصف آبادی سے بھی زائد خواتین کی آبادی ہے بلوچستان کے معاشرہ جو تعلیمی حوالے سے پسماندہ ، قبائلی ، نیم فرسودہ جاگیردارانہ رشتوں کی وجہ سے ماؤں ، بہنوں کو سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہاں پر خواتین کے حقوق کے حصول کیلئے ہمیں مزید تیزی کے ساتھ ان کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دینا چاہئے- انہوں نے کہا کہ پارٹی جو بلوچستان کے قومی جہد اور بلوچستان کے دیگر مسائل کے حل کیلئے برسرپیکار ہے آج کی خواتین ڈے کی مناسبت سے ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم خواتین کی فلاح و بہبود اور طالبات کی تعلیم کی بہتری کیلئے عملی جدوجہد کریں گے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان پسماندگی ، بدحالی ، غربت ، افلاس و دیگر مشکلات کا شکار ہے اس میں بلواسطہ یا بلاواسطہ مشکلات کا سامنا کرر ہی ہیں کیونکہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں آج بھی بلوچستان میں معاشی تنگ دستی ، بدحالی کی وجہ سے خواتین ذہنی کوفت کا شکار ہیں وہ مائیں جو غربت ، افلاس کی وجہ سے اپنے بچے اور بچیوں کی نشوونما کیلئے خوراک کی ضرورت ہوتی ہیں وہ بھی پوری نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے آج بلوچستان میں بچوں اور بچیوں کی شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی جو حقیقی و عملی طور پر بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد چاہئے کسی بھی طبقہ فکر سے تعلق ہو اسے مزید پروان چڑھا رہی ہے تاکہ ہم معاشرے میں مرد و خواتین کے مساوی حقوق کے حصول کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں ۔