BNP News 01.03.2017
* مرکزی رہنماء غلام نبی مری کی جانب سے مردم شماری و خانہ شماری و دیگر کئی معاملات پر تحفظات پر جوآئینی پٹیشن دائر کی گئی تھی اس بابت عدالت عالیہ کی جانب سے محکمہ شماریات، نادرا، صوبائی و وفاقی حکومتوں کو دوبارہ نوٹسز جاری کئے گئے اور سختی سے ہدایت کی گئی کہ اگلی سماعت تک متعلقہ ادارے اپنے جوابات عدالت عالیہ میں پیش کریں کیس کی سماعت دوبارہ ایک ہفتے بعد ہوگی۔
* بلوچستانی عوام اپنے حقوق کے حصول کیلئے اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ تمام اقوام آپس میں شیروشکر ہو کر اپنی جدوجہد کو تقویت دیں- مردم شماری، خانہ شماری پر تحفظات و خدشات دور کئے جائیں- صاف شفاف مردم شماری تب ہی ممکن ہو گی جب تحفظات دور ہوں گے (ہزارہ ٹاؤن میں منعقدہ شمولیتی پروگرام سے پارٹی رہنماؤں کا خطاب)-

 



کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے مرکزی رہنماء غلام نبی مری کی جانب سے مردم شماری و خانہ شماری پر تحفظات پر جوآئینی پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں افغان مہاجرین کو مردم شماری سے دور رکھنے اور لاکھوں کی تعداد میں بلوچ آئی ڈی پیز جو دیگر علاقوں میں بحالت مجبوری ہجرت کر چکے ہیں ان کو شمار کرنے کے بارے میں سماعت بلوچستان ہائی کورٹ میں گزشتہ روز ہوئی کیس کی پیروی بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، سپریم کورٹ کے وکلاء جمیل رمضان ایڈووکیٹ ، میر عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ، فاروق لہڑی ایڈووکیٹ ، کمال حسین ایڈووکیٹ ، موسی بلوچ ایڈووکیٹ نے کی عدالت عالیہ کی جانب سے محکمہ شماریات ، نادرا ، صوبائی و وفاقی حکومتوں کو دوبارہ نوٹسز جاری کئے گئے اور سختی سے ہدایت کی گئی کہ اگلی سماعت تک متعلقہ ادارے اپنے جوابات عدالت عالیہ میں پیش کریں کیس کی سماعت دوبارہ ایک ہفتے بعد ہوگی ۔

کوئٹہ (پ ر ) بلوچستانی عوام اپنے حقوق کے حصول کیلئے اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ تمام اقوام آپس میں شیروشکر ہو کر اپنی جدوجہد کو تقویت دیں- مردم شماری، خانہ شماری پر تحفظات و خدشات دور کئے جائیں- صاف شفاف مردم شماری تب ہی ممکن ہو گی جب تحفظات دور ہوں گے-

ان خیالات کا اظہار ہزارہ ٹاؤن میں منعقدہ شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے  پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، مرکزی رہنماء ثناء بلوچ ، سید ناصر علی شاہ ہزارہ ، شازیہ علی چنگیزی نے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائص ڈاکٹر رمضان ہزارہ نے سر انجام دیئے اس موقع پر پارٹی کی خواتین سیکرٹری زینت شاہوانی، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ ،بی ایس او کے چیئرمین نذیر بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبران اختر حسین لانگو ، سردار حق نواز بزدار ، جمال لانگو ، بی ایس او کے سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ ، ناصر بلوچ ، سردار رحمت اللہ قیصرانی ، ملک محی الدین لہڑی ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ، لقمان کاکڑ ، آغا خالد شاہ دلسوز ، حاجی ابراہیم پرکانی ، میر قاسم پرکانی ، دوست محمد بلوچ ، جمال مینگل ،میر اکرم بنگلزئی ، ڈاکٹر اصغر علی ،مرزا آزاد ، اصغر علی گلزاری ، حاجی منور چنگیزی ، سخی حاجی جان محمد ، حاجی غلام رسول ہزارہ آغائی ، آغائی سید رسول ، علی مدد ، حبیب اللہ نور ، محمد سخی داد ،  فاطمہ چنگیزی ، شگوفا احمدی ، رضیہ علی ، بی بی زینب ، بی بی کنیز و دیگر بھی موجود تھے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے شازیہ علی چنگیزی و دیگر کی پارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے پارٹی میں شامل ہو کر یہ ثابت کیا کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت حالات کی ضرورت ہے جو بلوچستان میں ترقی پسند سیاست کو فروغ دے رہے ہیں تمام اقوام کو آپس میں شیروشکر کرنے کی سیاست کو پروان چڑھا رہے ہیں تاکہ بلوچستان میں بلوچ ، پشتون ، ہزارہ سمیت اقوام یکجا ہو کر حقوق کیلئے جدوجہد کریں کیونکہ ہم نے ہمیشہ یہاں پر مذہبی جنونیت ، انتہاء پسندی جیسے رجحانات کی نفی کی ہے تاکہ بلوچستان میں فرقہ واریت ، تعصب ، شاؤنزم کی سیاست کو کمزور کیا جا سکے جب بھی بلوچستان میں ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے فرزندوں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا گیا تو اس کی ہر فورم پر مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان میں کسی بھی زبان ، قوم ، فرقے سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے قتل وغارت گری کسی صورت قبول نہیں کیونکہ بلوچستان کی اپنی مثبت روایات رہی ہیں یہاں پر انتہاء پسندی جیسے مذہبی رجحانات کا فروغ قابل قبول نہیں مقررین نے کہا کہ آج بلوچستان کے عوام انسانی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اکیسویں صدی میں بے روزگاری ، افلاس ، غربت سمیت دیگر سماجی ، معاشی ، معاشرتی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ حکمران ان مسائل کو حل کرنے میں مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں وقت و حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم متحد ہو کر جدوجہد کریں تب ہی حقوق کا اصول ممکن بن سکے گا مقررین نے کہا کہ مردم شماری ، خانہ شماری کی اہمیت و افادیت سے ہم بخوبی آگاہ ہیں لیکن مردم شماری صاف و شفاف نہ ہو تو اس کے مثبت اثرات سامنے نہیں آئیں گے ہونا تو یہ چاہئے کہ حکمران فوری طور پر مردم شماری پر خدشات و تحفظات دور کریں تاکہ مردم شماری کی شفافیت ممکن ہو سکے اگر موجودہ حالات میں مردم شماری ہوگی تو بہت سے سوالات اٹھیں گے مقررین نے کہا کہ پارٹی کے بلوچستان بھر میں جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں عوام کی شرکت اور شمولیت سے ثابت ہوتا ہے کہ بی این پی کو عوام مسائل سے نجات دہندہ پارٹی تصور کرتے ہیں سردار اختر جان مینگل کی قیادت وقت و حالات ضرورت ہے مقررین نے شمولیت کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین شعبے کو مزید فعال و متحرک بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گی ۔