BNP News 01.01.2017

* بلوچستان حکومت کی سرکاری مشینری افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز کے اجراء کیلئے استعمال کی جا رہی ہے- نادرا اور پاسپورٹ آفس اب بھی افغان مہاجرین کے غیر قانونی دستاویزات بنا رہے ہیں-

* ہم حقیقی ترقی اور نہ ہی صاف شفاف مردم شماری کے مخالف ہیں- سی پیک پر سب سے زیادہ حق غیور بلوچوں کا ہے- ہم چاہتے ہیں کہ گوادر کے بلوچوں کو پانی‘ صحت‘ روزگار سمیت تمام شعبوں میں ترجیح دیتے ہوئے گوادر اور بلوچستان کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے کے روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے- ہنر مندی  کے ٹیکنیکل کالج قائم کئے جائیں-

 


کوئٹہ (پ ر) بلوچستان حکومت کی سرکاری مشینری افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز کے اجراء کیلئے استعمال کی جا رہی ہے- نادرا اور پاسپورٹ آفس اب بھی افغان مہاجرین کے غیر قانونی دستاویزات بنا رہے ہیں- مردم شماری افغان مہاجرین کی موجودگی میں قابل قبول نہیں صاف شفاف مردم شماری تب ممکن ہے جب ان کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے لاکھوں بلوچ خاندانوں کی دوبارہ آبائی علاقوں میں آبادکاری کو یقینی بنایا جائے 60فیصد بلوچ جو شناختی کارڈز سے محروم ہیں شناختی کارڈز بنائے جائے حالیہ قحط سالی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں ان حالات میں حکمران بضد ہیں کہ وہ مردم شماری کرائیں کیا یہ بلوچوں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں پنجاب کے حکمران افغان مہاجرین کے ساتھ بھائی چارے کی فضاء کو دوام دینا چاہتے ہیں تو انہیں سیالکوٹ اور فیصل آباد میں آباد کریں اور وہاں انہیں ملکی شہریت بھی دے دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں شہید عنایت بلوچ ثابت قدم نظریاتی اور فکری ساتھی تھے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شہید عنایت بلوچ کی برسی کی مناسبت سے کلی شاہنواز میں تعزیتی ریفرنس سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ، ضلع کوئٹہ کے قائمقام صدر یونس بلوچ ، سردار عمران بنگلزئی ، میر غلام رسول مینگل احمد نواز بلوچ ، حاجی ابراہیم پرکانی ، رحمت اللہ پرکانی ، دوست محمد بلوچ ، حاجی باسط لہڑی ، میر طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ ، حمید لہڑی ،صفیح بلوچ ، ستار شکاری نے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جاوید جھالاوان نے سر انجام دیئے جبکہ اس موقع پر استاد باری ، ادریس پرکانی ، ثناء مسرور بلوچ ، مصطفی مگسی ، ٹکری صدام حسین لانگو ، فیض اللہ بلوچ ، شوکت بلوچ، شاہین بلوچ و دیگر بھی موجود تھے مقررین نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ شہید عنایت بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا شہید نے سماجی اور علمی حوالے سے بلوچ قوم کی بیش بہا خدمت کی ہے صوبائی حکومت کی اتحادی جماعتیں مزید افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز کے اجراء کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں اسی طرح پاسپورٹ آفس اور غیر قانونی طریقے سے انتخابی فہرستوں میں نام درست درج کرانے کی کوشش کر رہے ہیں حکمران اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ مردم شماری سے قبل جتنے بھی افغان مہاجرین ہیں ان کو کسی نہ کسی طریقے سے شناختی کارڈز کے اجراء کو یقینی بنایا جائے نادرا اور پاسپورٹ آفس حکام سیاسی و حکومتی دباؤ کاشکار ہیں جو غیر قانونی غیر آئینی اقدام ہے جبکہ دوسری جانب 60فیصد شناختی کارڈز سے محروم ہیں اس حوالے سے ارباب و اختیار کوئی قدم نہیں اٹھا رہے مرکزی حکومت اس امر کا نوٹس لے بلوچستان میں اب بھی غیر ملکیوں کی غیر قانونی آباد کاری میں بلوچستان حکومت کی سرکاری مشینری کو استعمال میں لایا جا رہا ہے جو قابل مذمت عمل ہے ساڑھے پانچ لاکھ افغان خاندانوں کی موجودگی میں ہم کیوں مردم شماری کرائیں آواران ، کوہلو ، ڈیرہ بگٹی ، مکران ، جھالاوان سے لاکھوں کی تعداد میں عوام بحالت مجبوری دوسروں علاقوں کو ہجرت کر چکے ہیں جب 10لاکھ سے زائد بلوچ اپنے علاقوں میں موجوو نہیں تو یہ کہاں کا انصاف ہوگا کہ مردم شماری کرائی جائے کیا یہ صاف شفاف مردم شماری ہوگی ملکی آئین و بین الاقوامی مسلمہ قوانین بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ40لاکھ غیر ملکیوں کی موجودگی میں مردم شماری کرائی جائے اب حالیہ قحط سالی کی وجہ سے بھی بلوچ دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں ان تمام عوامل کو حکمران سمجھتے ہوئے بھی بضد ہیں کہ مردم شماری کرائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکمران بلوچ دشمنی پر مبنی اقدام کرانا چاہتے ہیں اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب کے حکمرانوں پر ہو گی جو بااختیار ہیں اگر حکمران اپنے اتحادی کی خوشنودی کی خاطر 40لاکھ مہاجرین کو گلے لگا رہے ہیں تو ان کے ساتھ بھائی چارے کی فضاء کو مزید دوام دے اور ان 40لاکھ افغان مہاجرین کو سیالکوٹ ، فیصل آباد اور لیہ میں آباد کرائیں یا افغانیہ صوبہ میں آباد کر کے انہیں پاکستانی شہریت دے ہمیں کوئی اعتراض نہیں مقررین نے کہا کہ ایک جانب حکمران دعوے کرتے تھے کہ بلوچوں کو قومی دہارے میں شامل کیا جائے گا ان کی محرومی محکومیت کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جا ئیں گے کیا اس طریقے سے بلوچوں کو محکوم اور محروم بنایا جائے گا کیا ایسے ناانصافیوں پر مبنی مردم شماری سے نفرتوں میں اضافہ نہیں ہو گا ہزاروں سالوں سے ہماری تاریخ ، تہذیب ، تمدن کو ملیامیٹ کرنے کیلئے پنجاب کے حکمران اپنے اتحادی کو مول نہیں سکتے مقررین نے کہا کہ حکمرانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماضی کے بلوچوں کے ساتھ مظالم پر ان کی درد رسی کرتے زخموں پر مرہم رکھتے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اب بھی ماضی کی روش اور سازشوں میں طرز عمل کو تبدیل کر کے گھناؤنی سازشیں کی جا رہی ہیں بی این پی قومی جمہوری سیاسی بلوچوں کی سب سے بڑی جماعت ہے جو پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچوں کے اجتماعی قومی مفادات کی ترجمانی کرتی ہے اور بلوچوں کے جملہ مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مردم شماری سے معاملات مزید گھمبیر اور بحرانی شکل اختیار کریں گے ماضی میں بھی اسی روش کے ذریعے طاقت کا استعمال کیا اور جنرل مشرف سے حالات کو اس نہج تک پہنچایا اب کیا حکمران طریقہ کار تبدیل کر کے بلوچوں کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کر رہے ہیں مقررین نے کہا کہ ہم مردم شماری نہ سی پیک کے خلاف ہیں ہمارے مطالبات آئینی ، جمہوری ہیں ان کے تسلیم نہ کئے جانے تک خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آواز بلند کرتے رہیں گے آج حکمرانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان مہاجرین تو حکمرانوں کو قبول نہیں مگر بلوچ نہیں وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ بلوچ باشعور قوم کی حیثیت سے قلم کو ہتھیار بنا کر شعور کا مظاہرہ کریں اور موجودہ حالات میں جتنی بھی سازشیں کی جا رہی ہیں ان کو سمجھتے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کیلئے شعوری ، فکری ، نظریاتی طور پر اپنے آپ کو تیار اور متحد ہوں کیونکہ مردم شماری موت و ذیست کا مسئلہ ہے ہر فورم پر اس کے خلاف آواز بلند کی جائے گی اور حکمرانوں کے مکروفریب اور بلوچ دشمن اقدامات کے حوالے سے عوام کو آگاہی دیتے جائیں گے اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے کیونکہ ہم جدوجہد کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں آج جو جماعتیں افغان مہاجرین کی مختلف طریقے سے حمایت کر رہے ہیں وہ بلوچوں کا استحصال کرنا چاہتے ہیں آج بلوچ قوم ان کو پہچان لیں جو مختلف ووٹ بلوچوں سے لیتے ہیں اور آج بلوچوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے تاریخ ان کو معاف نہیں کرے گی ۔

مچھ (پ ر) حقیقی ترقی خوشحالی اور مردم شماری کے مخالف نہیں گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر بلوچ قوم کا اتحاد حالات کی ضرورت ہے-  اکیسویں صدی کا تقاضا ہے کہ بلوچ قلم کو اپنا ہتھیار بنائیں- شعور اور عوامی طاقت کے ذریعے سماجی انقلاب لانا چاہتے ہیں- مہر گڑھ کی تاریخ‘ رند لاشار اور بلوچوں کی سرزمین کی حفاظت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے-

ان خیالات کا اظہار مچھ میں میر بلال سمالانی اور سابق ناظم آب وگم میر حسن راہیجہ کی اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت کے موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ مرکزی کمیٹی کے ممبران غلام نبی مری ‘ واجہ یعقوب بلوچ ‘ ضلع بولان کے آرگنائزر میر اسد اللہ بنگلزئی ‘ یونس بلوچ ‘ میر غلام رسول مینگل ‘ قاسم پرکانی نے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ناصر شاہوانی نے سر انجام دیئے اس موقع پر کوئٹہ کے سیکرٹری اطلاعات اسد سفیر شاہوانی ‘ در محمد بلوچ ‘ ظفر نیچاری ‘ میر طاہر ایڈووکیٹ ‘ مطیع اللہ شاہوانی ‘ادا کریم بلوچ ‘ میر الطاف رندسمیت دیگر سینکڑوں کارکن بھی اس موقع پر موجود تھے-

 

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم حقیقی ترقی اور نہ ہی صاف شفاف مردم شماری کے مخالف ہیں- سی پیک پر سب سے زیادہ حق غیور بلوچوں کا ہے- ہم چاہتے ہیں کہ گوادر کے بلوچوں کو پانی‘ صحت‘ روزگار سمیت تمام شعبوں میں ترجیح دیتے ہوئے گوادر اور بلوچستان کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے کے روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے- ہنر مندی  کے ٹیکنیکل کالج قائم کئے جائیں- لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکی افغان مہاجرین کو مردم شماری کا حصہ بنایا جائے گا- مہاجرین کو جعلی شناختی کارڈ کے اجراء ‘ انتخابی فہرستوں میں نام شامل کئے گئے بہت سی سیاسی جماعتوں گروہی مفادات کیلئے انہیں یہاں آباد کر کے بلوچوں سمیت دیگر اقوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے مہاجرین معیشت پر بوجھ ہیں اب بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں مردم شماری کا حصہ بنایا جائے ساڑھے پانچ لاکھ افغان خاندانوں کو مردم شماری میں شامل کیا گیا تو یہ تمام اقوام کیلئے مسائل کا سبب بنیں گے بلوچ قوم کسی بھی صورت میں  ان کی موجودگی میں مردم شماری کو صاف شفاف قرار نہیں دے گی حکمران جعلی مردم شماری کرانا چاہتے ہیں جو خود چور دروازے سے اقتدار میں آئے اب یہ ان کا وطیرہ بن چکا ہے کہ مردم شماری کرائی جائے ایک ایسے وقت میں جب 10لاکھ سے زائد بلوچ آواران ‘ ڈیرہ بگٹی ‘ مری ‘ کوہستان ‘ جھالاوان ‘ مکران سے ہجرت کر چکے ہیں جب ان علاقوں میں لوگوں ہی نہیں ہوں گے تو کیسی مردم شماری ہو گی ہم تنگ نظری کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے لیکن یہ کسی بھی صورت درست اقدام نہیں اسی طریقے سے 60فیصد بلوچ شناختی کارڈز اور رجسٹریشن سے محروم ہیں دنیا کے کس قانون اور انصاف تقاضوں کو پورا کر کے تین بڑے مسائل کے ہوتے ہوئے مردم شماری کو کیسے صاف شفاف کرایا جا سکے گا مقررین نے کہا کہ سیوی ‘ بولان اور مہر گڑھ کی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ ‘ تہذیب و تمدن اور سرزمین کی حفاظت ہمارے اولین ترجیحات میں شامل ہے آج ہم کسی کو بھی اپنے تاریخی سرزمین کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے ہمارے اکابرین نے جان کی قربانی دے کر سرزمین کی آبیاری کی سامراج کے ساتھ مقابلہ کیا اور ثابت قدم رہتے ہوئے بلوچستان کی قومی تشخص ‘ بقاء و سلامتی کی جدوجہد کی اکیسویں صدی ہمیں اس بات کی جانب راغب کرتی ہے کہ ہم چیلنجز کا مقابلہ باشعور قوم کی حیثیت سے کریں جب قلم کو اپنا ہتھیار بنا کر اغیار کا مقابلہ کریں گے اور سماجی انقلاب برپا کریں گے تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیں کر سکے گی بلوچوں کا اتحاد وقت و حالات کی ضرورت ہے اور بلوچ قوم کے وسیع تر مفادات کیلئے یکجا ہو کر جدوجہد کریں ہمیں اپنے سیاسی ‘ گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت آن پہنچی ہے کہ بلوچوں کو اپنے ہی سرزمین پر محرومیوں کی جانب دھکیلا جا رہا ہے دنیا میں کئی قوموں کا وجود ختم ہو چکا ہے جنہوں نے اپنے وجود ‘ ثقافت ‘ روایت کی پاسداری اورفروغ کیلئے سرزمین نہیں رہے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے فرزند وقت و حالات کے چیلنجز کو سمجھیں اور اپنے خلاف ہونے والے تمام سازشوں کا مقابلہ شعور اور قلم کے ہتھیار سے جدوجہد کریں میر محمد حسین انکا ‘ بابو عبدالرحمان کرد سمیت مچھ و بولان کے شہداء جنہوں نے ہردور میں قربانیاں دے کر بلوچ وطن کے دفاع کی جدوجہد کی بی این پی بلوچوں کے قومی تشخص ‘ بقاء ‘ سلامتی کو اپنی اولین ترجیح سمجھی ہے وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ ہم سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بلوچ قومی جہد کریں مقررین نے پارٹی میں شمولیت والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پارٹی کے پروگرام کو گھر گھر پہنچانے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔