BNP News 01.03.2016

* پارٹی کی جانب سے 2 مارچ کو بلوچستان بھر میں بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا- تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ بلوچ ثقافت ڈے کو بھرپور انداز میں منائیں اور عوام میں اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں-

* چاکر خان یونیورسٹی کے نام کو تبدیل کرنا تعصب اور نسل پرستی ہے جس سے نفرتیں بڑھیں گی جو برادر اقوام کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی گہری سازش ہے گورنر بلوچستان تعلیم کے فروغ کی بجائے نفرتوں میں اضافے کا سبب نہ بنیں-

 
کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے 2 مارچ کو بلوچستان بھر میں بلوچ کلچر ڈے کی مناسبت سے تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا پارٹی بیان کے ذریعے تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ بلوچ ثقافت ڈے کو بھرپور انداز میں منائیں اور عوام میں اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں- بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے مرکزی سطح پر کوئٹہ میں مرکزی پروگرام منعقد کیا جائے گا جس میں بلوچ ادیب، شاعر، مفکر اور دانشور بلوچ ثقافت کی مناسبت سے تقاریب میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے-
سبی (پ ر) چاکر خان یونیورسٹی کے نام کو تبدیل کرنا تعصب اور نسل پرستی ہے جس سے نفرتیں بڑھیں گی جو برادر اقوام کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی گہری سازش ہے گورنر بلوچستان تعلیم کے فروغ کی بجائے نفرتوں میں اضافے کا سبب نہ بنیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن میر یعقوب بلوچ ، ضلعی صدر سبی حمید اللہ بلوچ ، ضلعی جنرل سیکرٹری در محمد بلوچ ، گل زمان مینگل ، میر غلام رسول مگسی اور موسیٰ خان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ حکمران بلوچستان میں تعلیم اور علم و آگاہی کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑے کر رہے ہیں بالخصوص گورنر بلوچستان سبی میں یونیورسٹی کے قیام جو میر چاکر خان رند کے نام سے منسوب ہے نام تبدیل کرنے کی کوشش تنگ نظری ہے بلوچوں کی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ کو تبدیل کرنا ممکن نہیں یہ حقیقت ہے کہ بولان کے میدانوں میں بلوچ فرزندوں نے ماضی میں تاریخی کارنامے سرانجام دیئے ہوئے سامراجوں کا جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا ان کی مثال نہیں ملتی بولان اور سبی کے میدان ، مہر گڑھ کی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ و تہذیب بلوچ وطن کا مسکن رہا ہے موجودہ حکمران تنگ نظری اور تعصب کی بنیاد پر بلوچوں کو مزید معاشی و معاشرتی طور پر پسماندہ و بدحال رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں اس سے بلوچوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہونا فطری عمل ہے اب تو تعلیمی اداروں میں بھی نسل اور زبان کی بنیاد پر داخلے اور فیصلے کئے جاتے ہیں اور تعلیم کی زبوں حالی کا سبب بن رہی ہے حکمرانوں کی تعلیمی ایمرجنسی خودکشیوں میں بدل چکی ہے تعلیمی ایمر جنسی کا نعرہ تو بلند کیا جا رہا ہے لیکن اس کے برعکس تعلیمی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے قاصر ہے اور میرٹ کی بنیاد پر آنے والوں کو رد کر کے من پسند لوگوں کو آگے لایا جا رہا ہے جونیئر کو سینئر پر ترجیح دی جا رہی ہے جوتعلیمی کی تباہی ہی ہے حکمران ایک  ایسی سوچ کو پروان چڑھا رہے ہیں جس سے بلوچوں کو معاشی اور معاشرتی طور پر پسماندہ رکھا جائے انہوں نے کہا کہ اگر حکمران تعلیم کے فروغ علم و آگاہی اور تعلیمی ایمر جنسی چاہتے ہیں تو بلا رنگ و نسل اقدامات کرتے میر چاکر خان یونیورسٹی کے قیام میں روڑے اٹکانا قابل افسوس عمل ہے انہوں نے کہا کہ حکمران ہمارے قومی ہیروز اور رہبروں کے نام تک برداشت کرنے کو تیار ہیں حکمران بلوچ پشتون جو ہزاروں سالوں سے آباد ہیں ان کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کی سازش کی جا رہی ہے  انہوں نے کہا کہ بی این پی ترقی پسند روشن خیال جماعت ہے لیکن قومی معاملات اپنی تاریخ تہذیب تمدن اور اجتماعی مفادات کی حفاظت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ حکمران سبی کی تاریخی بلوچ وطن کی حیثیت اور سماجی معاملات میں جو کردار ادا کر رہی ہے وہ کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہم تمام معاملات کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ حکمرانوں کی جانب سے سماجی معاملات میں بے جا مداخلت شاؤنسٹ سوچ کو بڑھا رہے ہیں ایسے توسیع پسندانہ عزائم کو کبھی برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان جو آئینی طور پر سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بلارنگ و نسل اور غیر جانبدار ہو کر صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں نہ کہ ایسی پالیسیاں مرتب کریں جس سے معاشرے میں مثبت رجحانات کو فروغ دینے کی بجائے دو اقوام کو دست و گربیاں کیا جائے جو دانش مندی نہیں فوری طور پر میر چاکر خان رند کے نام سے منسوب یونیورسٹی کے قیام کو عمل میں لایا جائے تاکہ برادر اقوام آپس میں شیروشکر ہو کر رہیں تنگ نظری اور شاؤنزم بلوچ تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتی کیونکہ بلوچستان بلوچوں کا مسکن رہا ہے بلوچوں کا سامراجوں کا جوان مردی سے مقابلہ اور وطن کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا آج بھی ہم اپنے ہیرو ز اوررہبروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچستان کی بقاء و سلامتی ، حقیقی ترقی و خوشحالی علم و آگاہی شعور و فکر کو تقویت دیتے ہوئے ہر سازش کو ناکام بنا دیں گے-