BNP News 01.01.2016

بی این پی شہداء کی سیاسی قوت ہے بلوچستان کے وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ ہم بلوچ قومی مفادات کو اولیت دیں-

 
کوئٹہ (پ ر) بی این پی شہداء کی سیاسی قوت ہے بلوچستان کے وقت و حالات کا تقاضا ہے کہ ہم بلوچ قومی مفادات کو اولیت دیں- اقتصادی روٹ ہمارے سامنے سانوی حیثیت رکھتا ہے اصل مسئلہ بلوچوں حق ملکیت کو تسلیم کرنا ہے 2016ء میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی موجودگی میں کوئی مردم شماری قبول نہیں اور نہی صاف شفاف اسے قرار دے سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار بی این پی کے رہنماء کامریڈ عنایت بلوچ کی برسی کے موقع پر کلی شاہ نواز میں ایک بڑے تعزیتی جلسہ عام سے خطاب کیا گیا جلسے کی صدارت شہید کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ تھے اعزازی مہمان مرکزی لیبر سیکرٹری منظور بلوچ تھے،مرکزی یومن سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی رہنماء و ضلعی جنرل سیکرٹری غلام نبی مری ، یونس بلوچ، میر غلام رسول مینگل ملک محمد ابراہیم شاہوانی ، نورویز بلوچ، عاطف بلوچ ، کامریڈ رحمت اللہ پرکانی ، جاوید جھالاوان بلوچ، جاوید عنایت بلوچ نے خطاب کیا اسٹیج کے سیکرٹری کے فرائض اسد سفیر شاہوانی نے سرانجام دیئے اس موقع پر تلاوت کلام پاک کی سعادت کامریڈ منان بلوچ نے حاصل کئے اس موقع پر لقمان کاکڑ،سعید کرد،ڈاکٹر زین الدین ،ثناء مسرور بلوچ، ستار شکاری ، مصطفیٰ اور دیگر کارکنان  بڑی تعداد میں موجود تھے ۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی بلوچوں کی شہداء کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے جو آج سیسہ پلائی دیوار کی مانند مضبوط اور مستحکم بنتی جارہی ہے شہید عنایت بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ وطن اورقوم کی خاطر قربان کی اور عوامی خدمات کے ذریعے سماجی مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے ایسے لوگ بہت کم ہی ہوتے ہیں جو عوام کے جذبات اور مسائل کے حل کی ترجمانی کرتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہتے ہیں مقررین نے کہا کہ بی این پی اپنی اصولی سیاسی موقف اور پروگرام کے بلوچ قومی مفادات کو ہمیشہ اولیت دی ہے اور جدوجہد کو مضبوط بنایا اسی پاداش پارٹی کے شہید گل زمین حبیب جالب سمیت بڑی تعداد میں دوستوں کو شہید کیا گیا کیونکہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہماری جدوجہد کا مور مقصد بھی یہی ہے کہ ہم عوام کی خدمت بلوچستان کی ترقی وخوشحالی اور شہداء کے مشن کو قومی و جمہوری طریقے سے آگے بڑھائے حالانکہ مشرف آمر اور سول حکمرانوں کے دور میں بے شمار پارٹی کے رہنماؤں نے قربانی دی اس کے باوجود اس دور کے حاکموں نے پارٹی کے اکابرین کے جدوجہد میں لرزش نہ لاسکے اور غیر متزلز جدوجہد اب بھی جاری ہے مقررین نے کہا کہ بی این پی واحد جماعت ہے جو بلوچستان کے جملہ مسائل کے حوالے سے ہمیشہ اصولی موقف اپنائی اور بلوچوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی بھی کی ۔آج ہم یہ واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ گوادر کے مسئلے پر بلوچوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی بی این پی نے کی آل پارٹی کارنفرنس کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم جو بلوچوں کو حقیقی مسائل درپیش ہے ملکی سطح پر انھیں اجاگر کریں بلوچوں کا مسائل حق حاکمیت اور حق ملکیت کو تسلیم کرنا ہے اور گوادر میں بلوچوں کو اقلیت میں بدلنے سے انھیں روکنے کی قانون سازی اور پورٹ کو مکمل اختیار کو یقینی بنانا ہے تاکہ بلوچستان کو مکمل اختیارات دی جائے مقررین نے کہا کہ گوادر اقتصادی مغربی روٹ بلوچوں کا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ عوام کو پانی سمیت تمام بنیادی ضروریات زندگی کو موثر بناتے ہوئے مکمل اختیاراور میگا پروجیکٹ پر اختیارات کو یقینی بنانا ہے مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے ذی شعور عوام بی این پی کی سیاست کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے یہ ضرورمحسوس کریگی کہ پارٹی ہی بلوچستان کے تاریخ تہذیب تمدن اور اپنی زمین کی بقاء کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم اس جدوجہد کو مقدس سمجھتے ہوئے اسے تقویت دے رہے ہیں ہمارا نظریہ بلکل واضح ہے کہ قوم کی ترقی و خوشحالی یا میگا پروجیکٹ اس وقت کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں جس میں عوام کو حقیقی ترقی وخوشحالی میں شامل کیا جائے مقررین نے کہا کہ ساڑھے پانچ لاکھ خاندان افغان مہاجرین نہ کہ صرف بلوچوں کیلئے بلکہ پورے بلوچستانیوں کیلئے مسائل کا سبب بن رہے ہیں انہی کی وجہ سے کلاشنکوف کلچر دہشت گردی مذہبی جنونیت فرقہ واریت انتہاء پسندی جیسے روجحات میں اضافہ ہوا ہے اس کے باوجود نادرا کے ارباب اختیارحکمرانوں کے سیاسی دباؤ میں آکر نادرا نے تمام شرائط کو ختم کردینا اس سے یہ عمل واضح ہوجاتا ہے کہ تمام سازشیں اس لئے کی جارہی ہیں تاکہ بلوچ اپنے وطن میں ہی اقلیت میں تبدیل ہو مردم شماری جو ہونے کو ہے اور دنیا کا کوئی مسئلہ اصول کسی کو یہ اختیار نہیں دیتی کہ اتنے بڑی تعدادد میں مردم شماری اور خانہ شماری میں غیر ملکیوں کو حصہ دار بنائے افغان مہاجرین کا تعلق کسی بھی زبان نسل فرقہ یا قوم سے ہو وہ کیوں نہ بلوچ ہو انھیں اختیار نہیں کہ بلوچستان میں جعلی شناختی کارڈ و اسناد بناتے پرے ان کی موجودگی اور بلوچستان کے جو مخدوش حالات ہے ان حالات میں مردم شماری غیر قانونی ہونگے کیونکہ اب بھی لاکھوں کی تعداد میں بلوچ اپنے علاقوں سے دوسرے علاقے منتقل ہوچکے ہیں مشرف کے آپریشن کے بعد مقررین نے کہا کہ پارٹی کسی بھی مردم شماری کو قبول نہیں کریگی ۔مقررین نے کہا کہ آج ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم بلوچ کے نوجونوں علم شعور اور انھیں یہ کہہ کہ علم قلم ہی کے ذریعے ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہے تو اس کی مثبت اور انقلابی تبدیلیاں معاشرے میں آسکیں گے بی این پی یوسف عزیز مگسی اور بلوچ اکابرین کی سیاست کا تسلسل ہے جو ثابت قدمی کے ساتھ اپنے وطن کے جدوجہد کو یقینی بنارہے ہیں آج بلوچ فرندوں پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کے خلاف جو سازشیں کی جارہی ہے ان پر کڑی نظر رکھیں اور بی این پی کے سہ رنگہ بیرک کے تلے جدوجہد کو مضبوط بنائے کیونکہ حقیقی معنوں میں بلوچوں کی پسماندگی کے خاتمے علم و اگاہی کی علم کو بلند کرنے اور بلوچستان میں بلوچوں کو متحدکرنے کی فکر کو پارٹی ہی پروان چڑھا رہی ہے ہمیں آج اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بلوچستان کی قومی تشخص اور اپنی زبان و ثقافت کو اور اپنے مثبت روایت کی فروغ کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے تب ہی ہم جاکر شہید عنایت بلوچ کی ارمانوں کی تکمیل کرسکیں گے ۔