شہید میر نور الدین خان مینگل کی ناقابل فراموش قربانیاں
غلام نبی مری


قومی تحریکوں میں ایسے افراد کی قربانیوں اور جدوجہد کو صدیوں تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے جو ہمہ وقت اپنی نظریاتی سوچ کی وجہ سے تحریکوں میں فعال کردار ادا کرتے ہیں وہ تمام تر اذیتوں مشکلات کا خندہ پشانی سے وقت و حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے متعین کردہ راستے سے ہٹنے اور سوچ میں تچیلی لانے اور اصولوں پر سودا بازی کرنے کا تصور نہیں کرتے دنیا کی کوئی طاقت ان کے پرعزم خیالات و افکار کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی بلوچستان کی قومی تحریک میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو قومی کاز کیلئے وقف کرتے ہوئے تاریخ میں نام پیدا کیا ان رہنماؤں میں سے ایک میر نور الدین خان مینگل ہے جنہیں 13 اکتوبر2010کو صبح بارہ بجے قلات میں اپنے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے شہید کیا گیا وہ بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے رکن تھے وہ ایک معزز سیاسی قبائلی اور اعلیٰ تعلیم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔سیاسی تعلیمی اور قبائلی حوالے سے ان کے علاقے میں قومی خدمات ناقابل فراموش ہیں میر نور الدین خان مینگل1952 کو بلوچستان کے تاریخی شہر قلات میں پیدا ہوئے وہ میر لعل بخش مینگل کے فرزند ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم قلات سے حاصل کی میٹرک نوشکی سے ایف ایس سی سائنس کالج کوئٹہ میں اور1970کو لاہور سے مائیننگ میں انجینئرنگ کی اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے طالب علمی کے دوران پنجاب میں بی ایس او کے پندرہ اور سولہ یونٹوں کو نہایت ہی فعال اور متحرک کرایا تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میر غوث بخش بزنجو مرحوم کی قیادت میں بی این پی میں شمولیت اختیار کی کیونکہ نیپ پر پابندی عائد ہوچکی تھی محکوم قوموں کیلئے کوئی اور پلیٹ فارم موجود نہیں تھا بی این پی کے مرکزی نائب صدر اور مرکزی کمیٹی کے عہدے پر فائز رہے پہلی مرتبہ1988کو بی این پی کے پلیٹ فارم سے قلات کی صوبائی اسمبلی کے نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کئے اور بعد میں آغا موسیٰ جان بلوچ  کے حق میں الیکشن سے دستبردار ہوگئے1990کے الیکشن میں بی این پی کی طرف سے قلات کے صوبائی حلقے سے الیکشن میں حصہ لیا مگر کامیابی حاصل نہیں کی1996کو بی این ایم اور بی این پی کے انضمام میں میر نور الدین مینگل نے کلیدی کردار ادا کیا جب انضمام ہوا تو میر نور الدین مینگل مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے اور وہ آخر دم تک بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے عہدے پر فائز رہے میر نور الدین مینگل کا شمار پارٹی کے تھنک ٹینک میں سے تھا وہ بی این پی اور بلوچ قومی تحریک کا ایک اہم فکر تھے بے حد سلجھے خوبصورت شخصیت کے مالک انسان تھے ملکی اور بین الاقوامی سیاسی معاشی اور آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے پر مکمل عبور رکھتے جب بھی پارٹی کی سی سی کا اجلاس یا کوئی اور اہم میٹنگ ہوتی تو میر نور الدین خان مینگل اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے گھنٹوں گھنٹوں تک زیر بحث ایجنڈوں پر تفصیل اور دلائل کے ساتھ سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے دوستوں کی توجہ کا مرکوز ہوتے تھے۔جب سابق امر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بی این پی نے سیاسی تحریک چلانے کیلئے بلوچستان میں پانچویں فوجی آپریشن کے خلاف شہید نواب اکبر خان بگٹی سمیت بلوچ فرزندوں کی شہادتوں کے خلاف2006کو یکم نومبر سے لے کر31دسمبر تک گوادر سے کوئٹہ تک تاریخی لانگ مارچ کا اعلان کیا تو پرویزی آمریت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بلوچ وطن پر بلوچی راج انقلاب زندہ باد کی سیاسی تحریک کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے بی این پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں شروع کردیں صوبہ بھر میں بی این پی کے مرکزی قائد سردار اختر جان مینگل سمیت مرکزی کابینہ مرکزی کمیٹی ضلعی تحصیل عہدیداروں اور پارٹی کے سرگرم دوستوں کو گرفتار کرکے پابند ساسل کردیا اور نیپ کی طرز پر ایک بار پھر بی این پی کو عملاً سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا پارٹی عہدیداروں کو گرفتار کرکے گوادر ژوب مچھ لورالائی گڈانی اور صوبے کی دیگر جیلوں میں شفٹ کیا گیا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہر حالات میں بی این پی کو سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے باہر کرنے کا مشن بنالیا ہے بلوچستان میں ایک بار پھر پارٹی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ گھروں پر چھاپوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری تھا اس دوران پارٹی چند دوست جو گرفتاریوں سے بچے تھے انہوں نے میر نور الدین مینگل کو پارٹی کا قائمقام سربراہ مقرر کیا میر نور الدین خان مینگل نے پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے خوف و ہراس کے ماحول کو ختم کرنے اور سیاسی جمود کو توڑنے کیلئے سیاسی میدان میں سرگرمیوں میں تیزی لائے اس دوران وہ تین جنوری2007کو جب بزرگ بلوچ قوم دوست لیڈر سردار عطاء اللہ خان مینگل سے ملنے قلات سے وڈھ جارہے تھے تو فورسز نے میر نور الدین مینگل اور ان کے ساتھیوں کو محاصرہ کرکے خضدار کے مقام پر گرفتار کرکے دو تین دن تک خضدار کے سٹی تھانے میں رکھا اور بعد میں کوئٹہ کے بدنام زمانہ کرائم برانچ تھانے میں شفٹ کرکے طرح طرح کی اذیتیں دی تاکہ وہ بی این پی کو خیر باد کہہ دیں یا سیاسی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کریں مگر اذیتیں اور شدید سردی کے باوجود ریاستی اذیتوں کا جوان مردی سے مقابلہ کیا تمام تر ذہنی اور جسمانی صعوبتوں کی پرواہ کئے بغیر قوم اور وطن کے مہر وفاء کی وابستگی جدوجہد کا خندہ پیشانی اور ثابت قدم رہے آمر قوتیں میر نور الدین مینگل کے چلتن پہاڑ جیسے عزم کو جھکنے اور بکنے پر ناکام رہے تو میر نور الدین مینگل کو انگریز استعمار کے بدنام زمانہ16اور 3ایم پی اے کے تحت گرفتار کرکے خضدار جیل شفٹ کیا جہاں پہلے سے بی این پی خضدار سوراب قلات کے کثیر تعداد میں رہنماء اور کارکن متعد تھے اسیری کے دوران میر نور الدین خان مینگل نے اپنی مدبرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خضدار ڈسٹرکٹ جیل کو ایک سیاسی تربیتی ادارے میں تبدیل کرکے سیاسی لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کیا میر نور الدین مینگل کو دور طالب علمی سے اپنے وطن اور قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے پر گہری لگن اور شوق تھا میر نور الدین مینگل کو ایک ایسے وقت میں شہید کیا گیا جبکہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ کی شہادت کو ابھی تک تین مہینے بھی نہیں گزرے تھے بلوچستان کے عوام اور پارٹی کارکن اپنے عظیم رہنماء کی جدائی کے غم میں نڈھال اور پارٹی سوگ منانے میں مصروف عمل تھے کہ پارٹی سرکردہ رہنماء میر نور الدین مینگل کو شہید کیا گیا۔قومیں قتل و غارت گری سے ختم نہیں ہونگی بلکہ قومی تحریک کو تقویت ملے گی لیکن شہید میر نور الدین مینگل جیسے نڈر بلوچ قومی کاز کیلئے صدیوں میں پیدا ہونگے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ بی این پی کی قیادت اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے راستے سے ہٹایا جارہا ہے شہید میر نور الدین مینگل شہید گلزمین حبیب جالب بلوچ شہید سلام ایڈووکیٹ شہید میر جمعہ خان رئیسانی شہید حاجی علی اکبر موسیانی شہید نصیر لانگو سے لے کر اب تک پارٹی کے70دوستوں کو شہید کیا گیا جبکہ بہت سے دوست لاپتہ ہیں پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور دیگر رہنماؤں کے گھر پر دستی بموں سے حملہ اور فائرنگ کی گئی بی این پی گزشتہ پندرہ سالوں سے ریاستی مظالم کے زیر عتاب ہے بلوچستان میں مسخ شدہ لاش گرانے کا سلسلہ بی این پی کے خان محمد غلامانی سے شروع ہواجو کہ تاہنوز جاری ہے پارٹی نے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے خلاف اسمبلیوں سے احتجاجاً مستعفی ہوکر بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ پوری دنیا کی توجہ مبذول کرانے میں کامیاب رہے بی این پی نے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی بلوچ فرزندوں کے ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں اور غائب کرنے سیاسی کارکنوں کے ٹارگٹ کلنگ چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں گوادر میگا پروجیکٹ گڈانی پاور پروجیکٹ سیندک ریکوڈک دودر چمالنگ اور گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کی تکمیل کو بلوچوں کو اپنی دھرتی سے بے دخل کرنے اور اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش سمجھتے ہوئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں مظالم کا سامنا کرتے ہوئے چلے آرہے ہیں بی این پی نے سیاسی اور جمہوری انداز میں بلوچستان اور بلوچ قوم کے قومی اجتماعی معاشی اور معاشرتی و سیاسی حقوق کے استحصال کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں پارلیمنٹ کے استعفوں سے لے کر سخت گیر سیاسی جلسے جلوس لانگ مارچ2008کے انتخابات سے بائیکاٹ شہادتیں گرفتاریاں اقوامتحدہ یورپی یونین انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے نمائندوں کو بلوچ وطن کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا جانا پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کا سپریم کورٹ میں چھ نکات کے ساتھ پیش ہوجانا شامل ہے دراصل بلوچ خطے کی جیو پولیٹکل اہمیت یہاں بے پناہ قدرتی وسائل پر بالادست قوتوں کی نظریں لگی ہیں وہ یہاں کے وسائل پر اپنا دائمی قبضہ جمانے کے منصوبوں کی راہ میں بلوچ نیشنلزم کی سیاسی طورپر دفاع کرنے والی جماعت بی این پی کو ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں چونکہ پارٹی کی جڑیں عوام میں مضبوط ہیں اور پارٹی بہتر انداز میں بلوچ کی استحصال محکومیت اور پسماندگی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں سرگرمع مل ہیں یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں شہید میر نور الدین خان مینگل جیسی قد آور شخصیت کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے بی این پی کو2013کے الیکشن میں اس لئے ہرایا گیا کہ بی این پی نے اسٹیبلشمنٹ سے بلوچ قومی سوال پر کمپرومائز کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کے نتائج کو بلاجواز سترہ دن تک روکا گیا اور پارٹی کے دیگر امیدواروں کے رزلٹ تین دن کے بعد تبدیل کرکے اعلان کیا بلوچ دشمن قوتوں نے میر نور الدین مینگل جیسی عظیم ہستی کو شہید کرکے جسمانی طورپر بلوچ قوم اور بی این پی کو کمزور کرنے کی ضرور کوشش کی ہو واقعتاً وہ ایک بہادر رہنماء تھے ان کی شہادت پر اہلیان بلوچستان اور بی این پی کے کارکنوں کو فخر ہے کہا نہوں نے قومی تحریک کیلئے اپنی جان کی قربانی دے کر منزل کو قریب کیا جنہوں نے تمام تر مراعات مفادات وطن دشمنی قوم دشمنی ذاتی مفاد کو رد کرتے ہوئے سخت راہوں پر چلتے ہوئے قومی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ مقام حاصل کرے مگر خوش قسمت انسانوں کو یہ درجہ اور رتبہ ملتا ہے شہداء کی قربانیوں کو عملی جامعہ پہنانے اور اپنے قومی ہیروز کے نقش قدم پر چلنے کا بہترین طریقہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی خاطر مصلحت پسندی رسوماتی انداز جدوجہد کو ترک کرکے کرنے والے تبدیلیوں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید خطوط پر استوار سائیٹفکیٹ بنیادوں پر تحریک میں عملی کردار ادا کرنا ہوگا ساحر لدھیانوی نے کیا خواب کہا ہے
 
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے بہے گا تو جم جائے گا


 



 

 

براہوئی احوال : ایک جائزہ

منظور بلوچ

براہوئی احوال ایک طول عرصے سے ’’جنگ‘‘ کے ادبی صفحے پر چھپتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ براہوئی زبان وادب کے حوالے سے جوسرگرمیاں ہوتی ہیں ان کا احوال بیان کیا جائے، لیکن اس کے لکھنے والے بالخصوص قیوم بیدار صاحب اس مقصد سے بے خبر یا دیدہ دانستہ طور پر ادبی بددیانتی کے مرتکب نظر آتے ہیں- وہ جب بھی لکھتے ہیں تو ان کے سامنے صرف وہی چند لوگ ہوتے ہیں جن سے ان کے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں یا پھر مفادات- یہی وجہ ہے کہ جب بھی براہوئی زبان وادب کی تاریخ لکھی جائے اس میں براہوئی احوال سے کوئی مدد نہیں لی جاسکتی۔
 
بیدار صاحب ادبی تاریخ کو مسخ کرنے میں یدِ طولٰی رکھتے ہیں- ان کے لیے وہی لوگ اہم ہیں جن کے شر سے وہ ڈرے ڈرے اور سہمے لگتے ہیں- وہ کوئی دلیل دئیے بغیر چند افراد کو ادب کے نام پر مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
 
انہیں ان تمام لوگوں، خاص طور پہ نوجوانوں سے خداواسطے کا بیر ہے جو کسی لالچ یا وسائل کے بغیر اپنی زبان کی اپنے تیئس خدمت میں مصروف ہیں- انہوں نے اپنے گزشتہ دو کالموں میں 2015ء کی ادبی سرگرمیوں سے متعلق لکھا ہے لیکن اس میں بھی ان کا طرز تحریرقصیدہ خوانی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
 
2015ء میں براہوئی ادب کے حوالے سے کچھ اچھے کام بھی ہوئے جبکہ ادبی تنظیموں میں توڑ پھوڑ اور مفادات کے لیے ادب کے میڈیم کو استعمال میں لایا گیا لیکن انہوں نے حقائق سے صرفِ نظر کرنے میں ہی عافیت جانی-
 
چونکہ میرا تعلق شون ادبی دیوان سے ہے اس لیے یہ امر مستحسن نہیں ہے کہ میں اس کے متعلق لکھوں، لیکن جب بیدار صاحب ’’دیوان‘‘ کی ادبی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے میں مصروف ہوں تو یہ مجبوری بنتی ہے کہ انہیں یاد دلایا جائے کہ گزشتہ سال جو ادبی تنظیم سب سے زیادہ متحرک رہی وہ شون ادبی دیوان ہی تھی- لیکن انہوں نے دیدہ دانستہ طور پر اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس عمل کو ادبی بد دیانتی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے۔؟
 
اسی طرح سخاوت ادبی کاروان، شال ادبی دیوان اور سیوت ادبی دیوان سمیت مچھ کے ان دوستوں کو بھی یاد رکھنا گوارہ نہیں کیا جنہوں نے پورا سال ادب کے حوالے سے کام کرنے میں گزاردیا۔
 
میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ بیدار صاحب کی ہمارے نوجوان شعراء سے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور وہ ان کے کلام سے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے ہیں- چونکہ راقم کو ان نوجوان کی کئی مجالس میں شرکت، ان کے ساتھ گفتگو اور ان کا کلام سننے کا موقع ملا ہے اس لیے برملا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج کا نوجوان شعری حوالے سے اپنے پیش روؤں سے بہت آگے ہے۔ سینئر شعراء ان نوجوانوں کی محفل میں شرکت سے اس لیے بھی بھی گریزاں ہیں کہ وہ ان کے کلام کو سننے اور ہضم کرنے کی تاب بھی نہیں لا سکتے۔
 
براہوئی اکیڈمی ہو یا ٹی وی اور ریڈیو کے سابق ملازمین، ان سب نے اپنے منصب کا نا جائز فائدہ اٹھایا ہے اور ادب کے راستے میں دیوار بنے رہے ہیں۔
 
ایک زمانے میں جب ریڈیو کا طُوطی بولتا تھا تو ہمارے نام نہاد پروڈیوسر صاحبان دیگر شعراء کا کلام ریکارڈ کرنے میں انتہائی بخل سے کام لیتے تھے۔ ان کا جواز یہ ہوتا تھا کہ ان شعراء کے ہی کلام ریکارڈ کیے جاسکتے ہیں جن کی منظوری اسلام آباد دے۔ اب ہمیں اپنی بے وقوفی پر ہنسی آتی ہے کہ اسلام آباد میں ایسا کون ہوگا جو براہوئی کو سمجھ سکتا ہو۔
 
اسی طرح پی ٹی وی کے سابق اسکرپٹ ایڈیٹر نے بھی اپنی الگ سی دنیا بنا رکھی تھی۔ وہ سیلف سنسر شپ کے ماہرین میں سے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کی- انہیں صرف اپنے دوست اور سندھ کے شعراء نظر آتے تھے۔ لیکن آج کل یہ افراد اپنی ادبی افادیت کھو چکے ہیں- ہمارے سینئر شعراء سوز، یاسین بسمل و دیگر کو چھوڑ کر اکثر بھلائے جاچکے ہیں۔ ان کے پاس کسی بھی محفل مشاعرہ میں سنانے کے لیے کلام تک نہیں ہوتا- ان کی کتابیں فنی کمزوری کا شکار ہیں۔ اسی طرح اگر 2015ء کی بات کی جائے تو سخا وت ادبی کاروان نے پہلی مرتبہ قلعہ محمدحسنی میں ایک عوامی مشاعرے کا اہتمام کیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا، لیکن براہوئی احوال میں اس مجلس سے متعلق ایک جملہ بھی نہیں ملتا۔
 
اسی طرح شال ادبی دیوان کے زیر اہتمام محمد شہی ٹاؤن میں ایک محفل مشاعرہ کا انقعاد کیا گیا جس میں ستر کے قریب نوجوان شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ یہ بزم سات گھنٹوں تک جاری رہی  لیکن ’’براہوئی احوال‘‘ میں اس کا کوئی احوال نہیں ملتا- سخاوت ادبی دیوان اور انجمن شعراء شال کی مجالس کا بھی ذکر نہیں ملتا، کیوں؟ اس کا جواب تو بہر حال بیدار صاحب ہی بہتر دے سکتے ہیں۔
 
اسی طرح سال 2015ء میں ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی صاحب کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روارکھا گیا- المیہ ہے کہ ان کے دم بھرنے والے شاگردوں اور دوستوں میں سے کسی نے اس پر مذمت کرنے کی جرات بھی نہیں کی۔ صرف شون ادبی دیوان نے اس معاملہ کو اٹھایا۔ اور اس کے خلاف مہم کا آغاز کیا لیکن اس سے قبل چند نام نہاد دانشوروں نے معاملہ کو رفع دفع کردیا تاکہ براہوئی اکیڈمی پر مسلط فرد واحد اور اس کے حواریوں سے متعلق سوالات اور ان  سے جان چھڑانے کی کوششوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جائے۔ اسی طرح چند تنظیموں نے مل کر ایک ادبی فورم قائم کیا جس میں براہوئی ادبی سوسائٹی بھی شامل تھی۔ بعد ازاں ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی سے متعلق ایک گفتگو پر ان کے خلاف بیدار صاحب نے ایک کالم بھی لکھ ڈالا اور راقم کا نام لیے بغیر ان کے خلاف بھی لکھا جس کا حق بہر حال راقم محفوظ رکھتا ہے۔
 
بیدار صاحب نے بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے پی ٹی وی بولان پروگرامز کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ’’بولان‘‘ کے پروگرام منیجر اور کرتا دھرتا ہیں لیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ انھی دنوں کرنٹ افیئر کے بلوچی پروگرام پر انہوں نے تحریری طور پر
پابندی عائد کی تھی جس کا بنیادی سبب راقم تھا۔ ایک پروگرام میں بلوچ فنکاروں، ان کی حالت زار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تو یہ سب کچھ پروگرام منیجر کی حیثیت سے ان کو ناگوار گزارا- انہوں نے پروگرام کے پروڈیوسر سے بہت ساری باتیں کہیں۔ انہوں نے براہوئی زبان وادب کے محسنوں کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اور ان محسنوں کو لالچی اور خودغرض تک قرار دیا۔
 
انہوں نے ’’بولان‘‘ ٹی وی کو اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے استعمال کیا۔ 2014ء میں گل خان نصیر سے متعلق براہوئی پروگرام میں جب راقم نے آن لائن حنیف مزاج سے رابطہ کیا تو انہوں نے گل خان نصیر کا ایک اردو کلام پیش کیا جو بیدار صاحب کے طبع نازک پرگراں گزرا۔ انہوں نے مزاج صاحب سے کہا کہ انہوں نے براہوئی کے پروگرام میں اردو کا کلام کیوں سنایا؟ ان کے کلام سنانے پر پروگرام منیجر نے بہت برا منایا حالانکہ ان دنوں قائم مقام پروگرام منیجر جعفر رئیسانی تھے۔ ان سے اس قسم کی توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ اگر اردو کلام ممنوع ٹھہرا----- تو گل خان نصیر کی بیشتر شاعری بلوچی میں ہے تو پھر کیا براہوئی میں ان سے متعلق پروگرام اور گفتگو نہیں ہوسکتی؟ مزکورہ کرنٹ افیئر کے بلوچی پروگرام سے متعلق جب پروگرام منیجر ایوب بابئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بلوچی پروگرام کی بندش کے حوالے سے انہوں نے کوئی حکم جاری نہیں کیا جو لوگ اس حوالے سے ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
 
جہاں تک فورم کا تعلق ہے اس حوالے سے انہوں نے ایک ذاتی نوعیت کا کالم لکھ کر فورم کے عہدیداروں کو بے نقط سنائی، پھر حیرت اس وقت ہوئی جب 2015ء کے سال کے حوالے سے انھی افراد کو انہوں نے دیگر پر سبقت دلانے کی کوشش کی۔ یہ کھلا تضاد نہیں تو کیا ہے؟ جہاں تک 2015ء کی کتابوں کا تعلق ہے ان کی تحسین تو کی گئی لیکن کیا بیدار صاحب نے خود ان کا مطالبہ کیا ہے؟ کیا یہ کتابیں واقعی کتابیں کہلانے کے لائق بھی ہیں یا چند لوگ اپنی سی وی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے مظلوم براہوئی زبان پر بے ڈھنگی قسم کی کتابوں کا بوجھ لاد رہے ہیں؟۔
 
وہ خود تو قارئین کو کتب بینی کا مشورہ دیتے ہیں لیکن کیا وہ خود بھی براہوئی کتب کا مطالبہ کرتے ہیں؟ اگر مطالعہ کرتے تو ایسی کتابوں کی تحسین نہیں کرتے جن میں لکھنے والوں کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے براہوئی ادبی سوسائٹی کو ’’کتاب مرکز‘‘ کا کریڈٹ بھی دیا، لیکن ---- کیا ’’کتاب مرکز‘‘ اور دکانداری میں کوئی فرق ہے؟
 
دراصل براہوئی احوال کے فورم کو ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ استعمال کرنے کی بجائے قیوم بیدار صاحب کا یہاں بھی رویہ ایسے دکاندار کا ہے جو صرف اپنے فائدہ کو دیکھتا ہے-
 
کیا براہوئی احوال کو براہوئی ادب کے حوالے سے مکالمہ اور سوال وجواب کا فورم بنایا جاسکتا ہے؟