گزشتہ تین سالہ ایجوکیشن ایمرجنسی کی وجہ سے تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے۔
نزیر بلوچ

 

 

نوشکی (نامہ نگار) بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر نزیر بلوچ،  سینئر نائب صدر عزیز احمد بادینی،  نائب صدر سندیپ کمار،  جنرل سیکرٹری ثناء اللہ جمالدینی،  ڈپٹی سیکرٹری حمید بلوچ،  جوائنٹ سیکرٹری عنایت اللہ بلوچ،  انفارمیشن اینڈ کلچر سیکرٹری سمیع بلوچ،  فنانس سیکرٹری لیاقت مینگل،  لیبر سیکرٹری عبدلخالد،  کسان اور ماہی گیر سیکرٹری سلیمان خان رودینی،  پروفیشنل سیکرٹری مدد خان ایڈو کیٹ اور  ہیومن رائٹس سیکرٹری جے کے بلوچ نے پنے مشترکہ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں ایجوکیشن ایمرجنسی کے بہانے شعبہ تعلیم کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ رکھا گیا اور تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن بھی اسی ایمرجنسی میں ہوئی۔


نوشکی سمیت پورے بلوچستان کے تعلیمی ادارے بد انتظامی،  کرپشن،  اقراباء پروری ،  سفارشی کلچر،  فنڈز کی غیر ضروری و غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے تباہی کا شکار ہیں۔ حکومتی دعووں کے برعکس پانچ مہینے گزرنے کے باوجود نوشکی کے 60 فیصد طلباء کو نصابی کتابیں نہ مل سکیں۔ نوشکی کے اکثر اسکولوں میں کچی اور پکی کے علاوہ باقی کتب مکمل نہ مل سکے۔ نوشکی کے 90 فیصد پرائمری اسکولوں میں باونڈری وال ہے ہی نہیں،  جبکہ نوشکی کے 80 فیصد سے زائد اسکولوں میں پینے کا پانی،  بجلی اور  واش رومز جیسی بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی حکومت کے جھوٹے دعووں کا ثبوت ہے۔


نوشکی میں اس وقت 300 سے زائد پوسٹس خالی پڑی ہیں اور انہیں پُر نہ کرنے کیوجہ سے گرلز پرائمری سکول کفایت اللہ شاہ،  گرلز پرائمری سکول کچکی چاہ،  گرلز پرائمری سکول جہان شاہ،  گرلز پرائمری سکول ملک جنگی خان شہزی ،  گرلز پرائمری سکول الٰہی بخش،  گرلز پرائمری سکول جلال شاہ،  بوائز پرائمری سکول غلام شاہ،  گرلز پرائمری سکول فقیر مصطفی، بوائز پرائمری سکول نذر محمد کڈّوکی،  بوائزپرائمری سکول شادی خان،  بوائزپرائمری سکول شاہ محمد کوٹوری،  بوائزپرائمری سکول گل محمد،  بوائز پرائمری سکول جہان شاہ،  بوائز پرائمری سکول ملک ناکام خان،  بوائز پرائمری سکول محمد نور خان اور بوائز پرائمری سکول سورالانڈی ٹیچرزنہ ہونے کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے بند پڑے ہیں اور اس کے باوجود محکمہ تعلیم مسلسل ایجوکشن ایمرجنسی کا راگ الاپ رہا ہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ نوشکی کے دوردراز علاقوں میں فرائض سرانجام دینے والی فیمیل اساتذہ کی پک اینڈ ڈارک کے لیے دی گئی گاڑی محکمہ تعلیم کے آفیسران کے زیر استعمال ہے جسکی وجہ سے فیمیل استاتذہ شدید مشکلات کا شکارہیں۔  این ٹی ایس کے تحت بھرتی ہونے والے 25 اساتذہ کو 13 مہینے بعد بھی تنخوا ہ کی عدم فراہمی قابل مزامت ہے ۔  نوشکی میں غیر حاضری اورڈبل جاب کرنے والے استاتذہ کے خلا ف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا جسکی وجہ سے ذمہ دار،  فرض شناس اور حاضر باش اساتذہ کی حوصلہ شکنی اور حق تلفی ہو رہی ہے ۔  نوشکی میں موجود  40  بنیادی تعلیم کمیونٹی اسکولز کا کچھ اتہ پتہ نہیں  لیکن اس مد میں ماہانہ لاکھوں روپے خرد برد ہو رہے ہیں جس میں صوبائی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران بھی شامل ہیں،  جبکہ ضلعی سطح پر اس بدعنوانی کے ذمہ داران کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ یہ اسکول انہی جگہوں پر بنائے گئے ہیں جہاں پہلے سے سرکاری سکول موجودہیں  اور ان سکولوں کے اندراجی کاغذات میں ان بچوں کے نام لکھے ہوئے ہیں جو سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ہم صوبہ محتسب اور نیب سے ان اسکولوں کے خلاف فوری ایکشن لینے کی درخواست کرتے ہیں۔


نوشکی میں اس وقت 30 ہزار سے زائد بچے اور بچیاں اسکولوں سے باہرہیں اور آرٹیکل 25-A کے تحت بنیادی اور مفت تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر یہاں تو باری باری حکومت کرنے کی چکر میں تمام محکموں کو تباہی کے داہنے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نوشکی کے تمام تعلیمی مسائل کو فوری حل کیا جائے  وگرنہ بلوچستان نیشنل پارٹی ایک ذمہ دار اور قومی پارٹی ہونے کے ناطے پرامن اور جمہوری لیکن سخت احتجاج کا حق محظوظ رکھتی ہے۔