شہید میر نور الدین خان مینگل کی ناقابل فراموش قربانیاں
غلام نبی مری


قومی تحریکوں میں ایسے افراد کی قربانیوں اور جدوجہد کو صدیوں تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے جو ہمہ وقت اپنی نظریاتی سوچ کی وجہ سے تحریکوں میں فعال کردار ادا کرتے ہیں وہ تمام تر اذیتوں مشکلات کا خندہ پشانی سے وقت و حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے متعین کردہ راستے سے ہٹنے اور سوچ میں تچیلی لانے اور اصولوں پر سودا بازی کرنے کا تصور نہیں کرتے دنیا کی کوئی طاقت ان کے پرعزم خیالات و افکار کے راستے میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی بلوچستان کی قومی تحریک میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو قومی کاز کیلئے وقف کرتے ہوئے تاریخ میں نام پیدا کیا ان رہنماؤں میں سے ایک میر نور الدین خان مینگل ہے جنہیں 13 اکتوبر2010کو صبح بارہ بجے قلات میں اپنے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے شہید کیا گیا وہ بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے رکن تھے وہ ایک معزز سیاسی قبائلی اور اعلیٰ تعلیم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔سیاسی تعلیمی اور قبائلی حوالے سے ان کے علاقے میں قومی خدمات ناقابل فراموش ہیں میر نور الدین خان مینگل1952 کو بلوچستان کے تاریخی شہر قلات میں پیدا ہوئے وہ میر لعل بخش مینگل کے فرزند ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم قلات سے حاصل کی میٹرک نوشکی سے ایف ایس سی سائنس کالج کوئٹہ میں اور1970کو لاہور سے مائیننگ میں انجینئرنگ کی اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے طالب علمی کے دوران پنجاب میں بی ایس او کے پندرہ اور سولہ یونٹوں کو نہایت ہی فعال اور متحرک کرایا تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میر غوث بخش بزنجو مرحوم کی قیادت میں بی این پی میں شمولیت اختیار کی کیونکہ نیپ پر پابندی عائد ہوچکی تھی محکوم قوموں کیلئے کوئی اور پلیٹ فارم موجود نہیں تھا بی این پی کے مرکزی نائب صدر اور مرکزی کمیٹی کے عہدے پر فائز رہے پہلی مرتبہ1988کو بی این پی کے پلیٹ فارم سے قلات کی صوبائی اسمبلی کے نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کئے اور بعد میں آغا موسیٰ جان بلوچ  کے حق میں الیکشن سے دستبردار ہوگئے1990کے الیکشن میں بی این پی کی طرف سے قلات کے صوبائی حلقے سے الیکشن میں حصہ لیا مگر کامیابی حاصل نہیں کی1996کو بی این ایم اور بی این پی کے انضمام میں میر نور الدین مینگل نے کلیدی کردار ادا کیا جب انضمام ہوا تو میر نور الدین مینگل مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے اور وہ آخر دم تک بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے عہدے پر فائز رہے میر نور الدین مینگل کا شمار پارٹی کے تھنک ٹینک میں سے تھا وہ بی این پی اور بلوچ قومی تحریک کا ایک اہم فکر تھے بے حد سلجھے خوبصورت شخصیت کے مالک انسان تھے ملکی اور بین الاقوامی سیاسی معاشی اور آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے پر مکمل عبور رکھتے جب بھی پارٹی کی سی سی کا اجلاس یا کوئی اور اہم میٹنگ ہوتی تو میر نور الدین خان مینگل اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے گھنٹوں گھنٹوں تک زیر بحث ایجنڈوں پر تفصیل اور دلائل کے ساتھ سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے دوستوں کی توجہ کا مرکوز ہوتے تھے۔جب سابق امر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بی این پی نے سیاسی تحریک چلانے کیلئے بلوچستان میں پانچویں فوجی آپریشن کے خلاف شہید نواب اکبر خان بگٹی سمیت بلوچ فرزندوں کی شہادتوں کے خلاف2006کو یکم نومبر سے لے کر31دسمبر تک گوادر سے کوئٹہ تک تاریخی لانگ مارچ کا اعلان کیا تو پرویزی آمریت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بلوچ وطن پر بلوچی راج انقلاب زندہ باد کی سیاسی تحریک کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے بی این پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں شروع کردیں صوبہ بھر میں بی این پی کے مرکزی قائد سردار اختر جان مینگل سمیت مرکزی کابینہ مرکزی کمیٹی ضلعی تحصیل عہدیداروں اور پارٹی کے سرگرم دوستوں کو گرفتار کرکے پابند ساسل کردیا اور نیپ کی طرز پر ایک بار پھر بی این پی کو عملاً سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا پارٹی عہدیداروں کو گرفتار کرکے گوادر ژوب مچھ لورالائی گڈانی اور صوبے کی دیگر جیلوں میں شفٹ کیا گیا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہر حالات میں بی این پی کو سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے باہر کرنے کا مشن بنالیا ہے بلوچستان میں ایک بار پھر پارٹی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ گھروں پر چھاپوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری تھا اس دوران پارٹی چند دوست جو گرفتاریوں سے بچے تھے انہوں نے میر نور الدین مینگل کو پارٹی کا قائمقام سربراہ مقرر کیا میر نور الدین خان مینگل نے پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے خوف و ہراس کے ماحول کو ختم کرنے اور سیاسی جمود کو توڑنے کیلئے سیاسی میدان میں سرگرمیوں میں تیزی لائے اس دوران وہ تین جنوری2007کو جب بزرگ بلوچ قوم دوست لیڈر سردار عطاء اللہ خان مینگل سے ملنے قلات سے وڈھ جارہے تھے تو فورسز نے میر نور الدین مینگل اور ان کے ساتھیوں کو محاصرہ کرکے خضدار کے مقام پر گرفتار کرکے دو تین دن تک خضدار کے سٹی تھانے میں رکھا اور بعد میں کوئٹہ کے بدنام زمانہ کرائم برانچ تھانے میں شفٹ کرکے طرح طرح کی اذیتیں دی تاکہ وہ بی این پی کو خیر باد کہہ دیں یا سیاسی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کریں مگر اذیتیں اور شدید سردی کے باوجود ریاستی اذیتوں کا جوان مردی سے مقابلہ کیا تمام تر ذہنی اور جسمانی صعوبتوں کی پرواہ کئے بغیر قوم اور وطن کے مہر وفاء کی وابستگی جدوجہد کا خندہ پیشانی اور ثابت قدم رہے آمر قوتیں میر نور الدین مینگل کے چلتن پہاڑ جیسے عزم کو جھکنے اور بکنے پر ناکام رہے تو میر نور الدین مینگل کو انگریز استعمار کے بدنام زمانہ16اور 3ایم پی اے کے تحت گرفتار کرکے خضدار جیل شفٹ کیا جہاں پہلے سے بی این پی خضدار سوراب قلات کے کثیر تعداد میں رہنماء اور کارکن متعد تھے اسیری کے دوران میر نور الدین خان مینگل نے اپنی مدبرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خضدار ڈسٹرکٹ جیل کو ایک سیاسی تربیتی ادارے میں تبدیل کرکے سیاسی لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کیا میر نور الدین مینگل کو دور طالب علمی سے اپنے وطن اور قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے پر گہری لگن اور شوق تھا میر نور الدین مینگل کو ایک ایسے وقت میں شہید کیا گیا جبکہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ کی شہادت کو ابھی تک تین مہینے بھی نہیں گزرے تھے بلوچستان کے عوام اور پارٹی کارکن اپنے عظیم رہنماء کی جدائی کے غم میں نڈھال اور پارٹی سوگ منانے میں مصروف عمل تھے کہ پارٹی سرکردہ رہنماء میر نور الدین مینگل کو شہید کیا گیا۔قومیں قتل و غارت گری سے ختم نہیں ہونگی بلکہ قومی تحریک کو تقویت ملے گی لیکن شہید میر نور الدین مینگل جیسے نڈر بلوچ قومی کاز کیلئے صدیوں میں پیدا ہونگے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ بی این پی کی قیادت اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے راستے سے ہٹایا جارہا ہے شہید میر نور الدین مینگل شہید گلزمین حبیب جالب بلوچ شہید سلام ایڈووکیٹ شہید میر جمعہ خان رئیسانی شہید حاجی علی اکبر موسیانی شہید نصیر لانگو سے لے کر اب تک پارٹی کے70دوستوں کو شہید کیا گیا جبکہ بہت سے دوست لاپتہ ہیں پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور دیگر رہنماؤں کے گھر پر دستی بموں سے حملہ اور فائرنگ کی گئی بی این پی گزشتہ پندرہ سالوں سے ریاستی مظالم کے زیر عتاب ہے بلوچستان میں مسخ شدہ لاش گرانے کا سلسلہ بی این پی کے خان محمد غلامانی سے شروع ہواجو کہ تاہنوز جاری ہے پارٹی نے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے خلاف اسمبلیوں سے احتجاجاً مستعفی ہوکر بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ پوری دنیا کی توجہ مبذول کرانے میں کامیاب رہے بی این پی نے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی بلوچ فرزندوں کے ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں اور غائب کرنے سیاسی کارکنوں کے ٹارگٹ کلنگ چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں گوادر میگا پروجیکٹ گڈانی پاور پروجیکٹ سیندک ریکوڈک دودر چمالنگ اور گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کی تکمیل کو بلوچوں کو اپنی دھرتی سے بے دخل کرنے اور اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش سمجھتے ہوئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں مظالم کا سامنا کرتے ہوئے چلے آرہے ہیں بی این پی نے سیاسی اور جمہوری انداز میں بلوچستان اور بلوچ قوم کے قومی اجتماعی معاشی اور معاشرتی و سیاسی حقوق کے استحصال کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں پارلیمنٹ کے استعفوں سے لے کر سخت گیر سیاسی جلسے جلوس لانگ مارچ2008کے انتخابات سے بائیکاٹ شہادتیں گرفتاریاں اقوامتحدہ یورپی یونین انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے نمائندوں کو بلوچ وطن کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا جانا پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کا سپریم کورٹ میں چھ نکات کے ساتھ پیش ہوجانا شامل ہے دراصل بلوچ خطے کی جیو پولیٹکل اہمیت یہاں بے پناہ قدرتی وسائل پر بالادست قوتوں کی نظریں لگی ہیں وہ یہاں کے وسائل پر اپنا دائمی قبضہ جمانے کے منصوبوں کی راہ میں بلوچ نیشنلزم کی سیاسی طورپر دفاع کرنے والی جماعت بی این پی کو ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں چونکہ پارٹی کی جڑیں عوام میں مضبوط ہیں اور پارٹی بہتر انداز میں بلوچ کی استحصال محکومیت اور پسماندگی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں سرگرمع مل ہیں یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں شہید میر نور الدین خان مینگل جیسی قد آور شخصیت کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے بی این پی کو2013کے الیکشن میں اس لئے ہرایا گیا کہ بی این پی نے اسٹیبلشمنٹ سے بلوچ قومی سوال پر کمپرومائز کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کے نتائج کو بلاجواز سترہ دن تک روکا گیا اور پارٹی کے دیگر امیدواروں کے رزلٹ تین دن کے بعد تبدیل کرکے اعلان کیا بلوچ دشمن قوتوں نے میر نور الدین مینگل جیسی عظیم ہستی کو شہید کرکے جسمانی طورپر بلوچ قوم اور بی این پی کو کمزور کرنے کی ضرور کوشش کی ہو واقعتاً وہ ایک بہادر رہنماء تھے ان کی شہادت پر اہلیان بلوچستان اور بی این پی کے کارکنوں کو فخر ہے کہا نہوں نے قومی تحریک کیلئے اپنی جان کی قربانی دے کر منزل کو قریب کیا جنہوں نے تمام تر مراعات مفادات وطن دشمنی قوم دشمنی ذاتی مفاد کو رد کرتے ہوئے سخت راہوں پر چلتے ہوئے قومی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ مقام حاصل کرے مگر خوش قسمت انسانوں کو یہ درجہ اور رتبہ ملتا ہے شہداء کی قربانیوں کو عملی جامعہ پہنانے اور اپنے قومی ہیروز کے نقش قدم پر چلنے کا بہترین طریقہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی خاطر مصلحت پسندی رسوماتی انداز جدوجہد کو ترک کرکے کرنے والے تبدیلیوں اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جدید خطوط پر استوار سائیٹفکیٹ بنیادوں پر تحریک میں عملی کردار ادا کرنا ہوگا ساحر لدھیانوی نے کیا خواب کہا ہے
 
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے بہے گا تو جم جائے گا