براہوئی احوال : ایک جائزہ

منظور بلوچ

براہوئی احوال ایک طول عرصے سے ’’جنگ‘‘ کے ادبی صفحے پر چھپتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ براہوئی زبان وادب کے حوالے سے جوسرگرمیاں ہوتی ہیں ان کا احوال بیان کیا جائے، لیکن اس کے لکھنے والے بالخصوص قیوم بیدار صاحب اس مقصد سے بے خبر یا دیدہ دانستہ طور پر ادبی بددیانتی کے مرتکب نظر آتے ہیں- وہ جب بھی لکھتے ہیں تو ان کے سامنے صرف وہی چند لوگ ہوتے ہیں جن سے ان کے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں یا پھر مفادات- یہی وجہ ہے کہ جب بھی براہوئی زبان وادب کی تاریخ لکھی جائے اس میں براہوئی احوال سے کوئی مدد نہیں لی جاسکتی۔
 
بیدار صاحب ادبی تاریخ کو مسخ کرنے میں یدِ طولٰی رکھتے ہیں- ان کے لیے وہی لوگ اہم ہیں جن کے شر سے وہ ڈرے ڈرے اور سہمے لگتے ہیں- وہ کوئی دلیل دئیے بغیر چند افراد کو ادب کے نام پر مسلط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
 
انہیں ان تمام لوگوں، خاص طور پہ نوجوانوں سے خداواسطے کا بیر ہے جو کسی لالچ یا وسائل کے بغیر اپنی زبان کی اپنے تیئس خدمت میں مصروف ہیں- انہوں نے اپنے گزشتہ دو کالموں میں 2015ء کی ادبی سرگرمیوں سے متعلق لکھا ہے لیکن اس میں بھی ان کا طرز تحریرقصیدہ خوانی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
 
2015ء میں براہوئی ادب کے حوالے سے کچھ اچھے کام بھی ہوئے جبکہ ادبی تنظیموں میں توڑ پھوڑ اور مفادات کے لیے ادب کے میڈیم کو استعمال میں لایا گیا لیکن انہوں نے حقائق سے صرفِ نظر کرنے میں ہی عافیت جانی-
 
چونکہ میرا تعلق شون ادبی دیوان سے ہے اس لیے یہ امر مستحسن نہیں ہے کہ میں اس کے متعلق لکھوں، لیکن جب بیدار صاحب ’’دیوان‘‘ کی ادبی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے میں مصروف ہوں تو یہ مجبوری بنتی ہے کہ انہیں یاد دلایا جائے کہ گزشتہ سال جو ادبی تنظیم سب سے زیادہ متحرک رہی وہ شون ادبی دیوان ہی تھی- لیکن انہوں نے دیدہ دانستہ طور پر اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس عمل کو ادبی بد دیانتی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے۔؟
 
اسی طرح سخاوت ادبی کاروان، شال ادبی دیوان اور سیوت ادبی دیوان سمیت مچھ کے ان دوستوں کو بھی یاد رکھنا گوارہ نہیں کیا جنہوں نے پورا سال ادب کے حوالے سے کام کرنے میں گزاردیا۔
 
میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ بیدار صاحب کی ہمارے نوجوان شعراء سے متعلق معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں اور وہ ان کے کلام سے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے ہیں- چونکہ راقم کو ان نوجوان کی کئی مجالس میں شرکت، ان کے ساتھ گفتگو اور ان کا کلام سننے کا موقع ملا ہے اس لیے برملا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج کا نوجوان شعری حوالے سے اپنے پیش روؤں سے بہت آگے ہے۔ سینئر شعراء ان نوجوانوں کی محفل میں شرکت سے اس لیے بھی بھی گریزاں ہیں کہ وہ ان کے کلام کو سننے اور ہضم کرنے کی تاب بھی نہیں لا سکتے۔
 
براہوئی اکیڈمی ہو یا ٹی وی اور ریڈیو کے سابق ملازمین، ان سب نے اپنے منصب کا نا جائز فائدہ اٹھایا ہے اور ادب کے راستے میں دیوار بنے رہے ہیں۔
 
ایک زمانے میں جب ریڈیو کا طُوطی بولتا تھا تو ہمارے نام نہاد پروڈیوسر صاحبان دیگر شعراء کا کلام ریکارڈ کرنے میں انتہائی بخل سے کام لیتے تھے۔ ان کا جواز یہ ہوتا تھا کہ ان شعراء کے ہی کلام ریکارڈ کیے جاسکتے ہیں جن کی منظوری اسلام آباد دے۔ اب ہمیں اپنی بے وقوفی پر ہنسی آتی ہے کہ اسلام آباد میں ایسا کون ہوگا جو براہوئی کو سمجھ سکتا ہو۔
 
اسی طرح پی ٹی وی کے سابق اسکرپٹ ایڈیٹر نے بھی اپنی الگ سی دنیا بنا رکھی تھی۔ وہ سیلف سنسر شپ کے ماہرین میں سے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کی- انہیں صرف اپنے دوست اور سندھ کے شعراء نظر آتے تھے۔ لیکن آج کل یہ افراد اپنی ادبی افادیت کھو چکے ہیں- ہمارے سینئر شعراء سوز، یاسین بسمل و دیگر کو چھوڑ کر اکثر بھلائے جاچکے ہیں۔ ان کے پاس کسی بھی محفل مشاعرہ میں سنانے کے لیے کلام تک نہیں ہوتا- ان کی کتابیں فنی کمزوری کا شکار ہیں۔ اسی طرح اگر 2015ء کی بات کی جائے تو سخا وت ادبی کاروان نے پہلی مرتبہ قلعہ محمدحسنی میں ایک عوامی مشاعرے کا اہتمام کیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا، لیکن براہوئی احوال میں اس مجلس سے متعلق ایک جملہ بھی نہیں ملتا۔
 
اسی طرح شال ادبی دیوان کے زیر اہتمام محمد شہی ٹاؤن میں ایک محفل مشاعرہ کا انقعاد کیا گیا جس میں ستر کے قریب نوجوان شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ یہ بزم سات گھنٹوں تک جاری رہی  لیکن ’’براہوئی احوال‘‘ میں اس کا کوئی احوال نہیں ملتا- سخاوت ادبی دیوان اور انجمن شعراء شال کی مجالس کا بھی ذکر نہیں ملتا، کیوں؟ اس کا جواب تو بہر حال بیدار صاحب ہی بہتر دے سکتے ہیں۔
 
اسی طرح سال 2015ء میں ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی صاحب کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روارکھا گیا- المیہ ہے کہ ان کے دم بھرنے والے شاگردوں اور دوستوں میں سے کسی نے اس پر مذمت کرنے کی جرات بھی نہیں کی۔ صرف شون ادبی دیوان نے اس معاملہ کو اٹھایا۔ اور اس کے خلاف مہم کا آغاز کیا لیکن اس سے قبل چند نام نہاد دانشوروں نے معاملہ کو رفع دفع کردیا تاکہ براہوئی اکیڈمی پر مسلط فرد واحد اور اس کے حواریوں سے متعلق سوالات اور ان  سے جان چھڑانے کی کوششوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جائے۔ اسی طرح چند تنظیموں نے مل کر ایک ادبی فورم قائم کیا جس میں براہوئی ادبی سوسائٹی بھی شامل تھی۔ بعد ازاں ڈاکٹر عبدالرحمان براہوئی سے متعلق ایک گفتگو پر ان کے خلاف بیدار صاحب نے ایک کالم بھی لکھ ڈالا اور راقم کا نام لیے بغیر ان کے خلاف بھی لکھا جس کا حق بہر حال راقم محفوظ رکھتا ہے۔
 
بیدار صاحب نے بلوچ کلچر ڈے کے حوالے سے پی ٹی وی بولان پروگرامز کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ’’بولان‘‘ کے پروگرام منیجر اور کرتا دھرتا ہیں لیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ انھی دنوں کرنٹ افیئر کے بلوچی پروگرام پر انہوں نے تحریری طور پر
پابندی عائد کی تھی جس کا بنیادی سبب راقم تھا۔ ایک پروگرام میں بلوچ فنکاروں، ان کی حالت زار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تو یہ سب کچھ پروگرام منیجر کی حیثیت سے ان کو ناگوار گزارا- انہوں نے پروگرام کے پروڈیوسر سے بہت ساری باتیں کہیں۔ انہوں نے براہوئی زبان وادب کے محسنوں کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اور ان محسنوں کو لالچی اور خودغرض تک قرار دیا۔
 
انہوں نے ’’بولان‘‘ ٹی وی کو اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے استعمال کیا۔ 2014ء میں گل خان نصیر سے متعلق براہوئی پروگرام میں جب راقم نے آن لائن حنیف مزاج سے رابطہ کیا تو انہوں نے گل خان نصیر کا ایک اردو کلام پیش کیا جو بیدار صاحب کے طبع نازک پرگراں گزرا۔ انہوں نے مزاج صاحب سے کہا کہ انہوں نے براہوئی کے پروگرام میں اردو کا کلام کیوں سنایا؟ ان کے کلام سنانے پر پروگرام منیجر نے بہت برا منایا حالانکہ ان دنوں قائم مقام پروگرام منیجر جعفر رئیسانی تھے۔ ان سے اس قسم کی توقع بھی نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ اگر اردو کلام ممنوع ٹھہرا----- تو گل خان نصیر کی بیشتر شاعری بلوچی میں ہے تو پھر کیا براہوئی میں ان سے متعلق پروگرام اور گفتگو نہیں ہوسکتی؟ مزکورہ کرنٹ افیئر کے بلوچی پروگرام سے متعلق جب پروگرام منیجر ایوب بابئی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بلوچی پروگرام کی بندش کے حوالے سے انہوں نے کوئی حکم جاری نہیں کیا جو لوگ اس حوالے سے ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
 
جہاں تک فورم کا تعلق ہے اس حوالے سے انہوں نے ایک ذاتی نوعیت کا کالم لکھ کر فورم کے عہدیداروں کو بے نقط سنائی، پھر حیرت اس وقت ہوئی جب 2015ء کے سال کے حوالے سے انھی افراد کو انہوں نے دیگر پر سبقت دلانے کی کوشش کی۔ یہ کھلا تضاد نہیں تو کیا ہے؟ جہاں تک 2015ء کی کتابوں کا تعلق ہے ان کی تحسین تو کی گئی لیکن کیا بیدار صاحب نے خود ان کا مطالبہ کیا ہے؟ کیا یہ کتابیں واقعی کتابیں کہلانے کے لائق بھی ہیں یا چند لوگ اپنی سی وی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے مظلوم براہوئی زبان پر بے ڈھنگی قسم کی کتابوں کا بوجھ لاد رہے ہیں؟۔
 
وہ خود تو قارئین کو کتب بینی کا مشورہ دیتے ہیں لیکن کیا وہ خود بھی براہوئی کتب کا مطالبہ کرتے ہیں؟ اگر مطالعہ کرتے تو ایسی کتابوں کی تحسین نہیں کرتے جن میں لکھنے والوں کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے براہوئی ادبی سوسائٹی کو ’’کتاب مرکز‘‘ کا کریڈٹ بھی دیا، لیکن ---- کیا ’’کتاب مرکز‘‘ اور دکانداری میں کوئی فرق ہے؟
 
دراصل براہوئی احوال کے فورم کو ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ استعمال کرنے کی بجائے قیوم بیدار صاحب کا یہاں بھی رویہ ایسے دکاندار کا ہے جو صرف اپنے فائدہ کو دیکھتا ہے-
 
کیا براہوئی احوال کو براہوئی ادب کے حوالے سے مکالمہ اور سوال وجواب کا فورم بنایا جاسکتا ہے؟